0

وبا اور وبا کے بعد تعلیمی حالات پر پاکستان کولیشن فار ایجوکیشن کا مباحثہ

پاکستان کولیشن فار ایجوکیشن نے اسلام آباد میں اپنی 11ویں سالانہ کنونشن کے موقع پر”وبا اور وبا کے بعد تعلیمی حالات” کے موضوع پر پالیسی مباحثہ کا انعقاد کیا ہے

اس مباحثے نے شرکاء کی توجہ موجودہ مسائل کی طرف دلائی ہے

پی سی ای کے کوآرڈینیٹر زہرہ ارشد نے اس بحث کا آغاز تعلیمی منظر نامے کے جائزہ کے ساتھ کیا ہے

معاشرے کے پہلے سے پسماندہ طبقات، لڑکیاں، معذور بچے، کم معاشی و معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلباء، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کا تذکرہ کیا ہے

جن کو حالیہ وبا کی وجہ سے پچھلے کچھ مہینوں سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

مباحثے کے شرکا نے اس بات پر روشنی ڈالی

کہ پاکستان کس طرح ای-لرننگ اور آن لائن ڈیجیٹل تعلیمی پلیٹ فارم کو بروئےکار لاتے ہوئے موجودہ تعلیمی بحران اور مسائل کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے

انہوں نے نظام تعلیم میں موجود عدم مساوات کی نشاندہی کی ہے

انہوں نے کہا کہ آن لائن تعلیم نے ملک کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ تک رسائی کی عدم فراہمی کی وجہ سے تعلیم کے حصول کے مسائل کو مزید بڑھاوا دیا ہے

خاص کر ان بچوں کے لئے جو مراعات یافتہ طبقہ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں

خواتین کے معاملے میں ثقافتی اور معاشرتی رکاوٹیں لڑکیوں کو اور خواتین کی کسی بھی قسم کی انفارمیشن ٹیکنالوجی تک رسائی کو محدود کرتی ہیں

انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کا ٹیلی اسکول کا اقدام منتخب شدہ میڈیم کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت اور ہوشیار رہا ہے

لیکن اس طلبہ کی آبادی کے بارے میں جاننا ضروری ہے جن کا وبائی مرض کے نتیجے میں ٹیلی ویڑن تک رسائی نہیں ہے

انہیں مزدوری یا گھریلو کاموں پر مجبور کیا گیا ہے

اسی سلسلے میں ریاست کی تعلیمی مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرانے کی ایس ڈی جیز فور اور اے پہلی پینل میں آر ٹی ای آرٹیکل 25 کوشش کی گئی ہے

ماہرین تعلیم پر مشتمل پینل نے موجودہ وبا میں حکومت کی تعلیمی پیشرفت اور چیلنجیز کا جائزہ لیا ہے

آرٹیکل کی منظوری اور 2016 میں قومی ترقیاتی ایجنڈا کی حیثیت سے پائیدار ترقیاتی اہداف کی متفقہ موافقت کے بعد اور اس 25 اے ایک دہائی کے دوران درپیش مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے

پاکستان یوتھ چینج ایڈوکیٹس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عریبہ شاہد نے حال ہی میں ایک اشاعت کے بارے میں معلومات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا

کہ 2030 تک پاکستان کو تمام سکولوں سے باہر بچیوں کو سکول داخلہ کرنے کے لئے 6.5 ٹریلین کے اخراجات اٹھانے پڑیں گے

تاہم پاکستان کا موجودہ تعلیمی بجٹ بین الاقوامی معیار سے بہت کم ہے

ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ اسامہ خلجی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ سہولیات کا فقدان ہے

حالیہ وبا میں بہت سارے مضافاتی علاقوں میں انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں