اسلام آباد (5 دسمبر 2024) انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب سمیت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے آج گرفتار کیے گئے رہنماؤں کو پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کردیا۔
آج اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 9 مئی 2023 کو جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) گیٹ حملہ کیس کی سماعت کے دوران بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) و سابق وزیراعظم عمران خان سمیت 60 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی جس کے بعد لیڈر عمر ایوب خان اور سابق وزیر قانون پنجاب راجا بشارت، ماجد دانیال، احمد چٹھہ اور ملک عظیم کو اڈیالہ جیل کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔
اڈیالہ جیل کے باہر سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاری کے معاملے پر ان کے وکیل نے انسداد دہشت گردی کی اسی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے سامنے درخواست دائر کی جس پر سماعت کرتے ہوئے انہوں نے آج رات ساڑھے 7 بجے ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) صدر ڈویژن محمد نبیل کھوکھر ملزمان کو پیش کریں۔
بعد ازاں رہنماؤں کی پیشی سے قبل عدالت کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی اور ڈنڈا بردار فورس بھی طلب کرلی گئی، تاہم رہنماؤں کی پیشی میں تاخیر کی گئی جس پر عدالت نے ایس پی صدر ڈویژن محمد نبیل کھوکھر کو توہین عدالت کا شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔
جج امجد علی شاہ نے جاری نوٹس میں کہا کہ ایس پی صدر صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر حکم میں تعمیل میں ناکامی کی وضاحت کریں۔
قبل ازیں آج عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید، راجا بشارت، اسد شفیق اور زرتاج گل وزیر سمیت 60 ملزمان کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی جب کہ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
18 نومبر کو راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جی ایچ کیو پر حملہ کیس میں مقدمے میں نامزد ملزمان بشمول عمران خان، عمر ایوب، شبلی فراز، شہباز گل، مراد سعید، حماد اظہر، زلفی بخاری اور صداقت عباسی کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔
ڈان نیوز کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) امیگریشن کو خط بھجوا دیا تھا، جی ایچ کیو حملہ کیس میں نامزد ملزمان کی بیرون ملک روانگی عدالت سے مشروط ہے۔
ملزمان کے بیرون ملک سفر پر پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 28 اے کے تحت عائد کی گئی تھی۔
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔
اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے