0

ماحولیاتی تبدیلی: شدید گرمی سے پاکستان و دیگر ممالک کے گارمنٹس ورکرز کو خطرہ

اسلام آباد( 9 دسمبر 2024 ) پاکستان، بنگلہ دیش اور ویتنام میں گارمنٹس مینوفیکچرنگ کے دنیا کے سب سے بڑے مراکز میں کام کرنے والے مزدور وں کو شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے، ایک ایسا مسئلہ جسے ملٹی نیشنل ریٹیلرز اور برانڈز کو حل کرنے میں مدد کرنا ہوگی۔

یورپی یونین کے نئے قواعد و ضوابط کے تحت انڈیٹیکس، ایچ اینڈ ایم اور نائیکی جیسے بلاک میں فروخت کرنے والے ریٹیلرز کو قانونی طور پر اپنے سپلائرز پر شرائط کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، جس سے ان پر دباؤ پڑتا ہے کہ وہ ان فیکٹریوں کو ’ٹھنڈا‘ رکھنے کے لیے فنڈز میں مدد کریں۔

کارنیل یونیورسٹی کے گلوبل لیبر انسٹیٹیوٹ کے محققین نے دریافت کیا کہ کراچی، ڈھاکہ، ہنوئی، ہو چی می سٹی اور نوم پین میں 2005 سے 2009 کے مقابلے میں 2020 سے 2024 کے دوران 30.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت والے دنوں کی تعداد میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس درجہ حرارت پر، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن جسم کے محفوظ بنیادی درجہ حرارت کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی گھنٹے میں کام کرنے کے برابر آرام کی سفارش کرتی ہے۔

رپورٹ میں صرف تین ریٹیلرز نائیکی، لیویز اور وی ایف کارپوریشن کی نشاندہی کی گئی ہے، جو خاص طور پر اپنے سپلائرز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کارکنوں کو گرمی کی تھکاوٹ سے بچانے کے پروٹوکول شامل کرتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں