اسپارک کا صحت ٹیکس بل پر عمل درآمد کے مطالبے پر بریفنگ سیشن کا انعقاد

sample-ad

اسپارک نے صحت ٹیکس بل پر عمل درآمد کے مطالبے پر بریفنگ سیشن کا انعقاد کیا ہے

اس بل کو وفاقی کابینہ نے 2019 میں منظور کیا تھا لیکن اس پر کبھی عمل نہیں ہوا ہے

اس بل سے سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں 50 بلین روپے سالانہ کی آمدنی ہوتی ہے

اسپارک نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ بل پر عمل درآمد کرنے کے لئے عملی اقدامات کیے جائیں

اسپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب سجاد احمد چیمہ نے کہا کہ تمباکو کی قیمتوں میں اضافہ، تمباکو کے استعمال اور اس سے متعلقہ صحت کی بیماریوں کو کم کرنے کے لئے سب سے مؤثر پالیسی ثابت ہوسکتی ہے

پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں جو ایک تشویش ناک تعداد ہے اور اس پر فوری کاروائی کی ضرورت ہے

ہیلتھ لیوی بل قیمتوں میں اضافہ کر کے آمدنی پیدا کرنے میں مدد کر سکتا ہے جس کو صحت کی دیکھ بھال کی اسکیموں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے

تاہم یہ بل ایف بی آر ،وزارت صحت اور وزارت خزانہ کے مابین گھومتا رہا ہے اور ابھی تک زیر التوا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ صحت ٹیکس عائد کرنے میں تاخیر کی وجہ سے سرکاری خزانے کو سالانہ 50 بلین روپے نقصان ہوا ہے

بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن (این سی آر سی) کی چیئر پرسن کی محترمہ افشاں تحسین نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نپٹنے اور نظام صحت کی بہتری کے لئے بل پر عمل درآمد ضروری ہے

نیز ، سستے سگریٹ انتہائی خطرناک مصنوعات تک نوجوانوں کو آسانی سے رسائی فراہم کرتے ہیں

ہم صحت سے متعلق ذمہ داری کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں اور اس معاملے میں تاخیر ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے لئے صحت ترجیحی معاملہ نہیں ہے

پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل چودھری ثناء اللہ گھمن نے کہا کہ تمباکو پاکستان میں سالانہ 166،000 اموات کا ذمہ دار ہے

اسے ایک “بچوں کے مرض” کے طور پر سمجھنا چاہیے

نوجوانوں کے تمباکو نوشی میں تعاون کرنے والے عوامل میں ثقافتی روایات ، تمباکو کی آسانی سے رسائ ، کم قیمت ، اور تمباکو کے اشتہارات اور فروغی سرگرمیاں شامل ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر افراد تمباکو کے استعمال سے سب سے زیادہ متاثرہ گروپ ہیں

تقریباً 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں جو پاکستان کے لئے خطرناک ہے

لہٰذا ہمارے بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے صحت ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.