ایف پی سی سی آئی کا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ری فائنانس اسکیم میں توسیع کا مطالبہ

sample-ad

ایف پی سی سی آئی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں Covid-19 کی وباء کی وجہ سے کمپنیوں کی مدد کے لیے روز گار اسکیم کی مد میں شروع کی جانے والی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے ری فائنانس اسکیم میں ایک سال کے لیے تو سیع کرے

اپنے بیان میں صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے اسٹیٹ بینک کے Covid-19 کے دوران کیئے گئے اقدامات جیسا کہ تاجروں کی قرضوں کی ادائیگیوں کو موخر کرنا، تنخواہوں کی ادائیگی میں کاروبار ی اداروں کی مدد، Temporary Economic Refinance Facility اسکیم تاکہ تاجروں اور صنعتکاروں کے cash flow کے مسائل حل ہوں

انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم سے بہت سارے صنعتی اور سروس سیکٹر کے اداروں کو کرونا وباء کے دوران ملازمین کے روزگار کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے

اس اسکیم کے تحت اسٹیٹ بینک نے اب تک 238 ارب روپے نجی شعبے کا جاری کیے ہیں

ایف پی سی سی آئی صنعتوں کے قیام میں پل کا کام کر سکتا ہے

ری فائنانس اسکیم پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ملازمین کے مالی معاوضوں اور تنخواہوں کے ذریعے ہر قسم کے کاروبار کی بینکوں کے ذریعے مدد کرنا ہے جیسا کہ ابھی تک پاکستان کی معیشتCovid-19 کی تباہ کاریوں سے باہر نہیں نکلی ہے لہذا اسٹیٹ بینک سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس اسکیم کو ایک سال کے لیے بڑھائے

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.