تھانہ کراچی کمپنی کے اہلکاروں کا قبلہ درست نہ ہو سکا

sample-ad

اسلام آباد(وجاہت حسین)تھانہ کراچی کمپنی کے اہلکاروں کا قبلہ درست نہ ہو سکا

تفصیلات کے مطابق تھانہ کراچی کمپنی کے اہلکاروں نے سائلین کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے

ہر تعینات ہونے والے ایس ایچ او کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں

ایس ایچ او کا کردار محض شو پیس کے سوا کچھ نہیں گشت پر مامور اہلکار اپنی من مانیاں کرنے میں مصروف ہیں

جی نائن مرکز بازار سے کئی گاڑیاں چوری ہوئیں مگر ان کو تلاش نہ کیا جا سکا

اہلکاروں کی طرف سے بے گناہ افراد کو تھانے بند کر کے ڈرانا دھمکانا معمول بنا رکھا ہے

آج کے دن بھی عطا محمد اہلکار نے میٹرو چمن سٹیشن سےدو لڑکوں کو دن کے وقت پکڑا اور بے گناہ لڑکوں پر آوارہ گردی کا الزام لگایا جبکہ دونوں لڑکے جی نائن مرکز میں اپنے رشتہ دار سے ملنے آئے تھے

جب لڑکوں کے رشتہ دار نےعطا محمد سے کہا کہ میرے ان عزیزوں کو چھوڑ دیں تو اس نے جواب دیا کہ تم بھی چلےجاؤ ورنہ تمہیں حوالات میں بند کر دوں گا

پی پی پی کی طرف سے ضلعی کابینہ کا انتخاب

بلیو ٹی وی کے کرائم رپورٹر وجاہت حسین نے جب ایس ایچ او کراچی کمپنی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے ا س معاملے کا علم نہیں لیکن میں بے گناہ لڑکوں کا عطا محمد کو کہتا ہوں وہ چھوڑ دے گا

مگر جب عطا محمد سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ تھانے آجائیں اور معاملات طے کریں

اہلکار کی اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ موصوف بے گناہ لڑکوں کو چھوڑنے کیلئے بھی کوئی نذرانہ وصول کرنا چاہتے ہیں

یاد رہے کہ ایک روز قبل بھی اسی تھانہ کے اہلکار ایک خاتون کی کال پر لیڈیز پولیس کے بغیر اس کے گھرگئے اور میاں بیوی کے جھگڑے میں” بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” والا کردار ادا کیا

تھانہ کراچی کمپنی کے اہلکاروں کا قبلہ درست کرنا ناگزیر ہو چکا ہے بصورت دیگر کئی بے گناہ افراد حوالات میں بند ہوتے رہیں گے

sample-ad

Facebook Comments

Website Comments

POST A COMMENT.