ریاست کا ایک اہم ستون بیوروکریسی ہے : حلیم عادل شیخ

sample-ad

قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ریاست کا ایک اہم ستون بیوروکریسی ہوتی ہے

نظام کو چلنے میں اہم پہیہ افسران ہوتے ہیں ہونہار نوجوان مقابلے کے امتحان سے گزر کراس مقام تک پہنتے ہیں تاکہ ریاست کے معاملات کو چلانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں

سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے کے بعد یہ اچھے افسران ہوتے ہیں مگر جب ان کی پوسٹنگ سندھ میں ہوتی ہے تو وہ اس کرپٹ سسٹم کا حصہ بن جاتے ہیں

سندھ میں تعینات افسران و دیگر صوبوں کے افسران کے نسبت زیادہ مالدار بن جاتے ہیں

اس صوبے میں دیکھا جائے تو ارب پتی ڈپٹی کمشنر موجود ہیں جو افسر سندھ میں آتے اچھا ضلع اور پوسٹنگ مل جاتی ہے تو ان کے حالات ہی بدل جاتے ہیں

سندھ میں ایفیشنسی اور ڈسیپلین رول کے تحت کوئی بھی کرپٹ افسرن پوسٹنگ پر رہ نہیں سکتا ہے سندھ میں روٹیشن پالیسی کے تحت افسران کے تبادلے ہوئے ہیں، جس پر مراد علی شاہ پریشانی کا شکار ہوگئے ہیں

وزیر اعلٰیٰ کو خوف ہے کہ ان رولز کی دیگر شقوں پر عمل ہوا تو کیا ہوگا؟ وی آر اور پلی بارگین کے بعد افسران نوکری سے فارغ ہوسکتے ہیں جبکہ نیب ایف آئی اے یا پولیس مقدمات کا سامنا کرنے والے افسران کو پوسٹنگ نہیں ملنی چاہیے جبکہ ذرائع سے زائد اثاثہ جات پر بھی کارروائی ممکن ہے

ایف الیون تھری کا ماڈل کالج میدان جنگ بن گیا

حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ میں 1550 افسران کرپشن کیسز میں ملوث ہیں 850 افسران پلی بارگین اور والنٹیئر رٹرن کے ذریعے کرپشن کی گئی رقم ادا کر چکے ہیں۔ نیب نےان افسران سے 35 ارب روپے ریکوری بھی کی ہے

نیب کی سندھ ہائی کورٹ میں جمع رپورٹ کے مطابق 700 سے زائد افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہے تین سابق چیف سیکریٹریز محمد صدیق میمن ،غلام علی شاہ پاشا اور عبدالسبحان میمن اورایک سابق آئی جی پولیس غلام حیدر جمالی بھی شامل ہیں جن پر بھی نیب میں مقدمات زیرسماعت ہیں

سندھ کے 25 صوبائی سیکریٹریز جن میں 15 حاضر سروس اور 10 سابق سیکریٹریز شامل ہیں جن پر نیب کیسز ہیں

وی آر کرنے والے 800 افسران آج بھی سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں جن میں سے اکثر کو اگلے گریڈ میں ترقیاں بھی مل چکی ہیں

سابق چیف سیکریٹری صدیق میمن زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا کیس ہے 2018 سے نیب میں کیس زیر سماعت ہے ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ پبلک سروس کمیشن کا ممبر بنادیاگیا سپریم کورٹ کا حکم ہے پبلک سروس کمیشن میں کوئی بھی داغدار افسر کو مقرر نہیں کیا جاسکتا اس حکم کے باوجود ان کو کمیشن میں ممبر مقرر کیا گیا

بدرجمیل میندھرو پر نیب کے دو ریفرنس ہیں 2015 پہلا ریفرنس ہوا تو گریڈ 20 میں تھا جس کے بعد سندھ حکومت نے 21 گریڈ میں ترقی دے دی اعجاز بلوچ پر تین نیب ریفرنس ہیں 2009 میں جب پہلا ریفرنس ہوا تو گریڈ 17 کے افسر تھے جس کے بعد 19 گریڈ میں ترقی دی گئی اب گریڈ 20 دیکر سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن مقرر کیا گیا ہے

ان کے خلاف زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے تین نیب ریفرنس ہیں اس وقت سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ لگایا گیا ہے

حسن نقوی چیئرمین پی اینڈ ڈی لگایا ہے بڑے عرصے تک سیکریٹری فنانس رہے چیئرمین پی اینڈ کی پوسٹ 22 گریڈ کی ہے حسن نقوی ڈی ایم جی گروپ کے 20 گریڈ کے افسر ہیں نیب نے جو رپورٹ دی ان کا نام ہے شامل ہے

حسن نقوی نے کرپشن کا اعتراف کیا نیب سے وی آر کی تھی وی آر کرنے کے باوجود بڑے عہدے پر لگایا نہ صرف مقرر کیا بلکے دو گریڈ زیادہ دیئے گئے حسن نقوی کا عہدہ چیف سیکریٹری کے بعد اہم عہدہ ہے روٹیشن پالیسی کے تحت وفاق نے تبادلہ کیا ہے

پانچ انجنیئر ایریگیشن کے وی آر کر چکے ہیں سندھ حکومت نے ایک کو چیف انجنیئر بنا کر ترقی دی چار کو سپرنٹنڈنٹ انجنیئر عہدے پر ترقی دی

سردار شاہ وزیر اعلیٰ کے رشتہ دار ہیں نیب سے وی آر کرچکے ہیں چیف انجینیئر کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے چیف انجنیئر گڈو بیراج رکھا گیا بعد میں چیف انجنیئر سکھر بئراج لیفٹ بینک رکھا گیا گزشتہ روز سکھر بئراج رائٹ بئنک کا اضافی چارج بھی دیا گیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2016 میں فیصلا دیا تھا وی آر کرنے والے افسران عہدے ہر نہیں رکھ سکتے ان کے خلاف مس کنڈکٹ کےتحت میجر پینلٹی ملنی چاہیے دسمبر 2020 میں ہائی کورٹ میں بھی اس فیصلے کو دہرایا گیا وی آر افسران کی مقرری اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے خلاف ہے

حلیم عادل شیخ نے کہا آفتاب میمن سابق سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن غلام مصطفی پھل پر چار چار نیب ریفرنس ہیں شمس الدین سومرو ممبر بورڈ آف روینیو جس پر انٹی کرپشن نے ایف آئی آر کے لئے سمری بھیجی وہ سمری وزیر اعلیٰ ہائوس میں گم ہوگئی

بچل راہوپوٹو پر گندم کرپشن کیسز سکھر نیب میں 19 ارب گندم خرد برد کا کیس وزیر اعلیٰ اور بچل راہوپوٹو اس کیس میں شریک ملزم ہیں گریڈ 19 میں تھے جس کو گریڈ 20 میں ترقی دی گئی اور ضمانت پر ہیں پھر بھی ترقی دی گئی

قانون نافذ کرنے والے ادارے اسٹریٹ کرمنلز کے آگے بے بس : سید احسن عباس

حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ کابینا سے اپنے مطلب کا فیصلہ لیا گیا ںچلے گریڈ کے افسران کو بڑے گریڈ پر رکھنے کی منظوری دی گئی جب کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ ہے نچلے گریڈ کے افسران کو نہیں رکھا جاسکتا او پی ایس پر مقرر افسران سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ورزی ہے سندھ کابینا کے فیصلے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہیں

حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ روینیو بورڈ میں واصف علی میمن کی تقرری کے لئے من پسند اہلیت کا اشتہار دیا گیا صرف پر صرف وہی پورا اترسکتے تھے۔ ٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل نے سندھ کے چیف سیکریٹری کو خط لکھا سندھ ریونیو بورڈ میں’’من پسند شرائط‘‘ مقرر کی گئی ہیں تاکہ ایک ریٹائرڈ کسٹمز افسر کو عہدے پر رکھا جا سکے واصف علی شاہ زرداری کے کزن ہیں

سندھ میں تعینات افسران ہمارے لئے محترم ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی سروس کو دیکھیں کرپٹ نظام کا حصہ بن کر خود کو اور ہمارے صوبے کا تباہ نہ کریں

آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری سندھ ہمت کریں اور سندھ حکومت کے خلاف قانون کاموں کا حصہ نہ بنیں اس وقت فرخ بشیر ڈفیکیٹو آئی جی بنے ہوئے ہیں جبکہ فیاض جتوئی ڈفیکیٹو چیف سیکریٹری بنے ہیں دونوں 19 گریڈ کے افسران نے مگر وزیر اعلیٰ ہاؤس میں بیٹھ کر تبادلوں سمیت تمام امور کو چلا رہے ہیں

اے ڈی خواجہ جیسے اعلیٰ افسران بھی سندھ میں رہ چکے ہیں لیکن انہیں برداشت نہیں کیا

Facebook Comments

POST A COMMENT.