سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عفان کی وڈیو پر موٹروے پولیس کا موقف سامنے آگیا

sample-ad

اسلام آباد(وجاہت حسین) سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عفان نامی شخص نے موٹروے پر سفر کی افادیت بارے میں اور اپنی ٹریفک قوانین کی سنگین غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے کیے گمراہ کن حقائق پیش کیے

اصل حقائق یہ ہیں کہ ڈاکٹر عفان صاحب مقررہ حد 120کی بجائے موٹروے پر 136 کی رفتار پر بھی سفر کرتے رہے

جس کے باقاعدہ ثبوت موٹروے پولیس کے پاس ہیں

موٹروے پر خراب لائٹس کے ساتھ سفر کرنا سنگین اور جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے

موٹر وے پولیس کے پاس مکمل ریکارڈ موجود ہے جس میں ڈاکٹر صاحب خطرناک طریقے سے رات کے وقت ایک لائٹ کے ساتھ سفر کر رہے تھے

موبائل فون حادثات کی اہم وجہ ہےموصوف دوران ڈرائیونگ موبائل فون مسلسل استعمال کر رہے ہیں

موٹروے پولیس روڈ یوزرز کی جان و مال کی حفاظت کے لیے 24 گھنٹے موجود ہوتی ہے

گاڑی چھیننے اور فائرنگ واقعہ کی اصل کہانی

ڈاکٹر صاحب کو انکی غلطی کا احساس دلانے کے لیے روکا گیا تو انہوں نے گاڑی کو بھگا دیا جو قانون کی خلاف ورزی ہے

موٹروے پولیس کی گاڑی ہر 12کلومیٹر میں موجود ہوتی ہے اگر انکو واردات کو شک ہوتا ہے تو کسی بھی گاڑی کے پاس رک کر اپنی شکایت نوٹ کرواتے

ڈاکٹر صاحب نے سستی شہرت کے لیے تین سو کلومیٹر کے سفر میں پولیس کی کسی بھی ہیلپ لائن پر مدد کے لیے کال نہیں کی

لیکن انہوں نے گمراہ کن حقائق بیان کرکے موٹروے پولیس جیسے شاندار پیشہ ورانہ کی کارکردگی کے حامل ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے جو حقائق کے منافی ہے

موٹروے پولیس کی موجودگی قومی شاہرات پر محفوظ سفر کی ضامن ہے جس کو نہ صرف ملکی سطح بلکہ بین الاقوامی طور پر سراہا جاتا ہے

موٹروے پولیس کے ہر افسر و جوان کے دل پر نقش ہے ایمانداری ہمارا ایمان، لوگوں کو محفوظ سفر فراہم کرنا ہماری شان اور خوش اخلاقی ہماری پہچان ہے اور ان اوصاف کی ہر قیمت پر حفاظت کی جاتی ہے

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.