فردوس عاشق اعوان نے سرعام اسسٹنٹ کمشنر کو ڈانٹ دیا

sample-ad

فردوس عاشق اعوان نے شاہی پروٹوکول لینے والی کو اس کی ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر جھاڑ پلا دی

اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے

کچھ لوگ فردوس عاشق اعوان کے حق میں رائے دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں

کچھ لوگ بغض عمران میں فتوے دینے لگ گئے ہیں کہ اےسی صاحبہ کے ساتھ غلط ہوا ہے

مگر جب کس غریب ریڑھی والے کی ریڑھی الٹی کر کےساری جمع پونجی بیچ سڑک پر پھینک دی جاتی ہے تو کیا اس غریب کی عزت نفس مجروع نہیں ہوتی؟

آخر یہ دوہرا معیار کب تک چلے گا؟

فردوس عاشق نے اے سی سے پوچھا کہ بازار کا اتنا برا حال کیوں ہے؟

اے سی نے جواب میں کہا کہ یہاں اتنا رش ہوتا ہے میں کیسے راونڈ لگاؤں؟

فردوس عاشق نے جواب دیا تو تمہیں تنخواہ کس بات کی ملتی ہے؟

کس بے غیرت نے تمہیں اے سی لگایا ہے؟

اس سارے منظر نامے میں بےغیر ت کا لفظ متنازع ہے ،اس کے علاوہ اگر اپ فردوس صاحبہ کو محض مخالف پارٹی وزیر ہونے کی حیثیت سے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو یہ سراسر زیادتی ہے

اے سی لاکھوں روپے تنخواہ اور مراعات لیکر گھر میں سکون سے بیٹھے ہوتے ہیں

تو کیا یہ خیانت نہیں کر رہے ہوتے؟

یہی اے سی اور ڈی سی جب راونڈ پر آتے ہیں تو کاروباری حضرات کو تھپڑ تک دے مارتے ہیں

تب انکا لہجہ فرعون کی عکاسی کر رہا ہوتا ہے

بھارت میں کورونا وائرس کی بد ترین صورت حال

اس خاتون کا گریبان پکڑے جانے پر اگر عوام تنقید کر رہی ہے، تو بلکل غلط کر رہی ہے

یوں تو آپ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہی چھوڑ دیں گے

وہ ہمارے ٹیکس پر پروٹوکول لیتی ہے اور بازار میں رش کی وجہ سے آنے سے بھی ڈر رہی ہے

سپاہی اگر تنخواہ لیتا ہے تو اسکو بارڈر پر لڑ مرنے کے لیے بھی جانا پڑتا ہے

اب اگر وہ گھر میں سکون سے بیٹھ جاۓ اور تنخواہ بھی لیتا رہے تو اس سے سوال کرنے پر کیا آپ شور مچائیں گے؟

پھر آپ سمجھ لیں کہ ہم بغض میں ذہنی مریض بن چکے ہیں

غلط کو غلط کہنا سیکھیں

غلطی خواہ اپنے کی ہی کیوں نہ ہو

حق کو حق کہنے کا حوصلہ رکھیں خواہ وہ دشمن کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو

یہ ہمارا مذہبی معاشرتی اور اخلاقی فریضہ بھی ہے

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.