ملی یکجہتی کونسل کا اتوار کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان

sample-ad

سربراہ مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور ملی یکجہتی کونسل کی دیگر جماعتوں نے فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائی جانے والی قیامت سے متعلق اپنا موقف واضح کر دیا

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اتوار کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا

پریس کانفرنس میں مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، ملی یکجہتی کونسل کے جنرل سیکرٹری علامہ ثاقب اکبر، تحریک نوجوانان پاکستان کے چیئرمین عبد اللہ حمید گل، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما مولانا حبیب احمد نظیری، اسلامی تحریک پاکستان کے رہنما نیئر عباس بلوچ اور ملی یکجہتی کونسل کی تحقیقاتی کمیٹی کے مفتی امجد عباس نے مشترکہ طور پر یوم احتجاج کا اعلان کیا

مقررین نے کہا کہ تمام رکن جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ صہیونی ریاست کے مظالم پر ہم کسی صورت خاموش نہیں رہیں گے اور قبلہ اول کی بے حرمتی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے

تاریخی حقائق کی روشنی میں ہمارا یہ واضح نظریہ ہے کہ اسرائیل ایک غاصب، انتہاپسند اور دہشت گرد ریاست ہے جسے عالمی سامراج نے دھونس دھاندلی، پیسے اور اسلحے کے زور پر فلسطینی سرزمین پر مسلط کر رکھا ہے

افسوس مذہب اور ریاست کو جدا قرار دینے والی بظاہر سیکولر اور لبرل قوتوں نے ایک یہودی ریاست قائم کرنے میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کیا ہے اور انہوں نے اب تک اسے سہارا دے رکھا ہے

اس اقدام سے سامراجی طاقتوں کی منافقت آشکار ہوتی ہے

ناجائز اسرائیلی ریاست پہلے دن سے ہی فلسطینی علاقوں، محلوں اور گھروں پر ناجائز قبضے کرنے کے درپے ہے

اس وقت فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بیت المقدس میں قدیمی طور پر آباد فلسطینیوں کے گھروں پر قبضے کے خلاف ایک ردعمل کا نتیجہ ہے

فلسطینیوں کا ردعمل اس وقت شروع ہوا جب صہیونیوں نے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت مسجدِ اقصی میں نمازیوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد کا آغاز کیا اور سینکڑوں فلسطینیوں کو زخمی کر دیا

اسی ظلم کو روکنے کے لیے غزہ کے مسلمانوں نے اپنے مظلوم بھائی بہنوں کی حمایت میں اسرائیل کو ظلم و تشدد بند کرنے کے لیے الٹی میٹم دیا

جس کی صہیونیوں نے پرواہ نہیں کی

انتہاپسند صہیونی، امریکہ اور مغرب کی پشت پناہی اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں انسان کش، توسیعی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہیں

ان اقدامات سے جن انسانوں کے حقوق پامال کیے گئے، جنھیں ان کے گھروں سے جلا وطن کر دیا گیا، وہ بھلا کیسے چپ رہ سکتے ہیں؟

اسرائیل ایک ناکام اور غیر فطری ریاست ہے اس کا خاتمہ دیر یا بدیرناگزیر ہے

یہ امر افسوس ناک ہے کہ امریکہ نے مسلسل سلامتی کونسل کے اجلاس کو بے نتیجہ بنانے کے لیے اپنا منفی کردار ادا کیا ہے اور گذشتہ روز اجلاس ہی منعقد نہیں ہونے دیا تاکہ اسرائیل کو اپنے وحشیانہ مظالم مزید جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جا سکے

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اقوامِ متحدہ ایک ناکام ادارہ بن کر رہ گیا ہے اور امریکہ کے سامنے اس کی حیثیت ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدن والی ہے

یہ امر انتہائی تاسف آور ہے کہ آج مسلمانوں کے بیشتر ممالک کی قیادت بصیرانہ اور فیصلہ کن اقدامات کی صلاحیت سے عاری ہے

چاہیے تو یہ تھا کہ اب جب فلسطینی مظلوم اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو ان کا بھرپور ساتھ دیا جاتا لیکن زیادہ تر زبانی جمع تفریق قراردادوں اور مذمتوں پر انحصار کیا جا رہا ہے

ایسے نمائشی اقدامات سے کبھی قوموں کی تقدیر نہیں بدلتی

تاہم مسلمان ممالک کے حکمرانوں سے قطع نظر مسلمان عوام القدس کی آزادی کا جذبہ لیے ہوئے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں

ہم حماس، اسلامی جہاد اور دیگر آزادی پسند فلسطینیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی جرأت و استقامت کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہی

ہمارے نزدیک دنیا میں، خاص کر مشرقِ وسطی میں امن کا پائیدارحل یہ ہے کہ دنیا بھر سے اکٹھے کیے گئے یہودی اپنے اپنے گھروں کو واپس جائیں اور فلسطینی اپنے گھروں میں آباد ہوں

اصلی اور حقیقی فلسطینی جن میں مسلمان، مسیحی اور یہودی شامل ہیں

ان پر مشتمل ریاست بحال ہو اور وہ اپنے ایک ملک گیر ریفرنڈم کے ذریعے اپنی حکومت تشکیل دیں

اس کے بغیر خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ورنہ اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کی موجودہ پالیسی خود یہودیوں کے لیے نقصان دہ ہے

ہم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے نظریات کی روشنی میں اسرائیل کو ناجائز اور غاصب ریاست سمجھتے ہیں اور دو ریاستی حل کوایک طاغوتی فریب کے سوا کچھ نہیں جانتے

حکومتِ پاکستان کو بھی بانی پاکستان اور مفکرِ پاکستان کے نظریات پر کاربند رہنا چاہیے

ہم اس موقع پر افغانستان میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جن میں سکول کی معصوم بچیوں اور بچوں نیز بے گناہ نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

ہم جانتے ہیں کہ داعش اور ایسے دیگر تکفیری و دہشت گرد گروہ امریکہ کے پروردہ ہیں اور امریکہ افغانستان سے جاتے جاتے انھیں وہاں اپنا جانشین بنا رہا ہے جیسا کہ وہ شام اور عراق میں کر چکا ہے

ہم اس موقع پر مظلوم اہلِ کشمیر سے بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ وہ ایک روز سفاک اور عیار برہمن سامراج سے نجات حاصل کریں گے

مقبوضہ کشمیر میں عید کی نماز کے راستے میں ڈالی گئی رکاوٹوں کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں

آخر میں ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسرائیل کی حالیہ سفاکانہ کارروائیوں کے خلاف پورے ملک میں کل بروز اتوار ملی یکجہتی کونسل کی اپیل پر یومِ احتجاج منایا جائے گا

ہم تمام دینی، مذہبی، سیاسی
جماعتوں اور پاکستان کے غیور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شریک ہوں

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.