مہنگائی، روپے کی بے قدری کے کنٹرول کے لیے حکومت کو خدمات پیش کر تے ہیں : میاں ناصر حیات مگوں

sample-ad

میاں ناصر حیات مگوں صدر ایف پی سی سی آئی نے ایکسچینج ریٹ کے مسلسل غیر مستحکم ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے؛ جس سے خام مال اور اجناس کے درآمد کنندگان کو بھاری نقصان ہو رہا ہے اور مہنگائی میں روز بروزہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ شرح مبادلہ کو غیر مستحکم رکھ کر کسی بھی ملک کی برآمدات پر مبنی صنعتوں کو تباہ کرنا تباہی کا نسخہ ہے

میاں ناصر حیات مگوں نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی گہری تشویش کے ساتھ ایکسچینج ریٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے تناظر میں پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری کی سپورٹ نہ کرنے پر حکومت اور اسٹیٹ بینک کی عدم فعالیت کا مسلسل مشاہدہ کر رہا ہے

ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان نے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں افراط زر کی موجودہ لہر ایکسچینج ریٹ کے اتار چڑھاؤ سے نااہلی کے ساتھ نمٹنے کا براہ راست نتیجہ ہے

دوسری صورت میں خوراک کی قیمتوں میں استحکام حاصل کیا جا سکتا تھا، مثال کے طور پر اس وقت خوردنی تیل 400 روپے فی لیٹر کے آس پاس فروخت ہو رہا ہے

ریاست کا ایک اہم ستون بیوروکریسی ہے : حلیم عادل شیخ

ناصر خان نے مزید کہا کہ زمینی حقائق کی بنیاد پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈالر جلد ہی200 روپے تک پہنچ سکتا ہے؛اور یہ پاکستا ن کی معیشت اور عام لوگوں کے لیے یکساں طور پر تباہی کا باعث بنے گا

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ حکومت جاگ جائے اور وزیراعظم پاکستان خود روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کی نگرانی کریں

میاں ناصر حیات مگوں نے بطور صدر ایف پی سی سی آئی نے اب تک ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے ایکسچینج ریٹ کے استحکام کے لیے اپنے تعاون اور مشاورت کی پیشکش کی ہے

انہو ں نے مزید کہا کہ حکومت کو برآمدی صنعتوں کے تحفظ کے لیے ایک پروفیشنل میکانزم وضع کرنے کی ضرورت ہے؛ مزید برآں، آئی ایم ایف پروگرام سے متعلقہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ؛ مطلوبہ اہلیت اور دیانتداری کے ساتھ اسٹیٹ بینک کو فعال کردار ادا کرنے؛ جہاں قابل اطلاق ہو بارٹر تجارت کو فروغ دینے اور غیر روایتی درآمدی منڈیوں اور خطوں کی تلاش میں سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے

Facebook Comments

POST A COMMENT.