ٹریفک پولیس کا نظام بہتر نہ ہو سکا

sample-ad

اسلام آباد(وجاہت حسین)اسلام آباد ٹریفک پولیس کا نظام بہتر نہ ہو سکا

کارکردگی دکھانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر افسران و اہلکاروں کے فوٹو شوٹ لیے جاتے ہیں

ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکاروں کی عدم توجہی کے باعث احتساب عدالت والے جی الیون سگنل کے پاس روڈ پر کھڑی ٹیکسی و پرائیویٹ گاڑیاں حادثات کو دعوت دینے لگیں

جی تیرہ پل کے اوپر کھڑے ٹریفک پولیس کے اہلکار ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر بسیں روکنے اور چھوڑنے لگے

ایک ہی ٹریفک اہلکار کی ایک سگنل پر مسلسل تعیناتی کی وجہ سے تعلقات آڑے آنے لگے

ٹریفک پولیس کی لائسنس برانچ میں سائلین کو شدید دشواری کاسامنا ہے

آن لائن اپوائنٹمنٹ سسٹم فلاپ ہو کر رہ گیا تین روز کی اپوائنٹمنٹس not available کے ٹیگ سے نظر آنے لگیں

ذاتی تعلقات والے افراد کی فون کالز کے زریعے اپوائنٹمنٹس ہونے لگیں

عام افراد کئی کئی گھنٹے شدید دھوپ میں باہر کھڑے رہنے کے بعد واپس جانے پر مجبور ہیں

کالے شیشوں والی گاڑیوں کے خلاف بھی مکمل کارروائی نہ ہو سکی

محض چند کالے شیشے والی گاڑیوں کی تصاویر اپ لوڈ کر کے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمن کو سب اچھا کی رپورٹ دی جانے لگی

چند افسران کے ٹریننگ پر جانے کی وجہ سے سائلین کو گیٹ پر دھوپ میں کھڑا کرکے خوار کرنا گیٹ پر کھڑے اہلکاروں کا معمول بن گیا

شہر میں جرائم پیشہ عناصر سرگرم : پولیس خاموش تماشائی

اپنا تعلق ظاہر کرنے یا دفتر میں موجود کسی اہلکار سے فون پر بات کروانےوالے افراد کی بے تحاشہ انٹریاں بغیر تعلق والے افراد کا قیمتی وقت ضائع ہونے لگا

عام شہریوں کیلئے ڈرائیونگ لائسنس بنواناسہولت کے بجائے درد سر بن گیا ہے

لائسنس کارڈ پر لگی تصاویر غیر معیاری پرنٹنگ کے باعث بھوتوں کی تصاویر لگنے لگیں ہیں

کلرڈ تصاویر کی بجائے زمانہ قدیم جیسی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر چھاپی جانے لگیں

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.