پاکستان کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کس خدشہ

sample-ad

پاکستان میں آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہےکہ کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبےکو فراہمی نا روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہے

حکام نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی نا ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے

آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں لیکن موجود صورتحال میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے

پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں پانچ کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا

آکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہےکہ کورونا کی موجودہ لہر کے دوران اگر آکسیجن کی صنعتی شعبےکو فراہمی نا روکی گئی تو اسپتالوں میں شدید کمی ہو سکتی ہے

حکام نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی کرنا ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے

ملک میں کورونا کی تیسری لہر : ماہ اپریل میں 7 بچے جاں بحق

آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں لیکن موجود صورتحال میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے

پاکستان آکسیجن لمیٹیڈ کے مطابق ملک میں پانچ کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں، موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ جائے گا

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.