0

دارالحکومت صفائی کنٹریکٹس کیلئے دو کمپنیاں شارٹ لسٹ

اسلام آباد: (19 جنوری،2016)اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی اور کچرا ٹھکانے لگانے کے کنٹریکٹس کیلئے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے دو جوائنٹ وینچرز (JVs) دوڑ میں شامل ہیں۔

بولیوں کی جانچ کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جس کے تحت تین میں سے ایک جوائنٹ وینچر کو نااہل قرار دیا گیا جبکہ دو جوائنٹ وینچرز دونوں کنٹریکٹس کیلئے مقابلے میں باقی رہ گئے ہیں۔

پیکیج ون (شہری علاقے) کیلئے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو تین جوائنٹ وینچرز کی بولیاں موصول ہوئیں جن میں Matracon Kangjie (JV)،
NJC MMC–NCS Group-Imperial Ventures–Chongqing Endurance Co. (JV)
اور Waste Buster–Teknik–ZKB (JV) شامل ہیں۔

سی ڈی اے ذرائع کے مطابق Waste Buster، Teknik اور ZKB پر مشتمل جوائنٹ وینچر کو نااہل قرار دے دیا گیا۔

پیکیج ٹو (دیہی علاقے) کیلئے بھی تین جوائنٹ وینچرز میدان میں تھے جن میں Waste Buster–Teknik–ZKB،
NJC MMC & NCS Group–Imperial Ventures (Pvt.) Ltd.–Chongqing Endurance Co. Ltd. (JV)
اور Kangjie–KAPEC (JV) شامل ہیں۔
یہاں بھی Waste Buster کی قیادت والا جوائنٹ وینچر نااہل قرار پایا جس کے بعد دو جوائنٹ وینچرز مقابلے میں رہ گئے۔

ذرائع کے مطابق باقی رہ جانے والی دو کمپنیوں میں سے ایک نے دوسری کے خلاف شکایت دائر کر رکھی ہے، جس کے باعث مالی بولیاں تاحال نہیں کھولی جا سکیں۔ شکایت کمیٹی کے فیصلے کے بعد ہی مالی بولیاں کھولی جائیں گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں کے سابقہ صفائی کنٹریکٹس گزشتہ سال جنوری میں ختم ہو چکے تھے۔ اس کے بعد سے سی ڈی اے شہری علاقوں میں اپنے عملے اور سابقہ کنٹریکٹرز کے کارکنوں اور مشینری کے ذریعے صفائی کا کام چلا رہا ہے۔

تاہم دیہی علاقوں میں ایک سال سے زائد عرصے سے کوئی باقاعدہ انتظام موجود نہیں، جس کے باعث سڑکوں اور گلیوں میں جگہ جگہ کچرا پڑا نظر آتا ہے۔

مناسب نظام نہ ہونے کے باعث دیہی علاقوں کے رہائشی کھلے مقامات اور نالوں میں کچرا پھینکنے پر مجبور ہیں جبکہ سی ڈی اے کبھی کبھار ثانوی کلیکشن کر لیتا ہے۔

ایک سرکاری افسر کے مطابق نئے کنٹریکٹس کے تحت جب پورے اسلام آباد میں گھر گھر سے کچرا اٹھانے کا نظام شروع ہوگا تو صفائی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

سینیٹیشن ڈائریکٹوریٹ کے حکام کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں سے روزانہ تقریباً ایک ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔ سی ڈی اے دونوں کنٹریکٹس فی ٹن کلیکشن اور ڈسپوزل ریٹس کے مطابق دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لاگت 25 ارب روپے لگائی گئی تھی، تاہم نئی بولیوں میں فی ٹن کلیکشن ریٹ کی بنیاد پر بولیاں طلب کی گئیں۔
سی ڈی اے کے پاس اس وقت تقریباً 1,100 مستقل سینیٹیشن ورکرز ہیں جو بدستور اتھارٹی کے ملازم رہیں گے، مگر ان کی خدمات نئے کنٹریکٹرز کے سپرد کی جائیں گی۔
فی الحال سی ڈی اے راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ساتھ معاہدے کے تحت کچرا لوسر منتقل کر رہا ہے۔

سی ڈی اے اپنا کچرا پہلے آئی نائن ویسٹ اسٹیشن پر جمع کرتا ہے اور پھر راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے لوسر پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سی ڈی اے لوسر میں اپنا جدید لینڈ فل سائٹ بنانے کا بھی منصوبہ رکھتا ہے۔

1960 میں قیام کے بعد سے اب تک سی ڈی اے دارالحکومت کیلئے مستقل لینڈ فل سائٹ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے اور مختلف مقامات پر کچرا منتقل کرتا رہا ہے۔

لوسر منتقل کرنے سے قبل سی ڈی اے سیکٹر آئی 12 میں رہائشی علاقے کے اندر کچرا ڈالتا رہا جسے گزشتہ سال بند کر دیا گیا تھا۔

حال ہی میں سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی نے بتایا کہ اتھارٹی جلد مالی بولیاں کھولے گی اور کنٹریکٹس ایوارڈ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹس ملنے کے بعد شہری اور دیہی علاقوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور پورے اسلام آباد میں گھر گھر کچرا اٹھانے، پرائمری اور سیکنڈری کلیکشن کا یکساں نظام نافذ ہوگا۔

لینڈ فل سائٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے نے لوسر میں 1200 کنال زمین کے حصول کیلئے راولپنڈی ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو ادائیگی کر دی ہے اور زمین کے حصول کا عمل جاری ہے۔
یہ لینڈ فل سائٹ ری سائیکلنگ اور میٹریل ریکوری سہولیات کے ساتھ ایک جدید مربوط مرکز ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا کیونکہ وہاں ثانوی کلیکشن کی جا رہی ہے، اور جلد ہی نئے کنٹریکٹس کے تحت شہری و دیہی علاقوں میں صفائی کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں