0

نیب کی سی ڈی اے کو سہولتی پلاٹس کی منتقلی میں مدد

اسلام آباد: (12 جنوری،2026)قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد میں کام کرنے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں سے 15 ہزار سہولتی پلاٹس
(Amenity Plots) کی سی ڈی اے کے نام منتقلی کے لیے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔

سہولتی پلاٹس پارکس، اسکولوں، مساجد، سڑکوں اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص ہوتے ہیں اور سی ڈی اے کے قواعد کے مطابق یہ زمین ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو سی ڈی اے کے نام منتقل کرنا لازم تھا۔ تاہم ذرائع کے مطابق متعدد کیسز میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے سہولتی زمین پر پلاٹس بنا کر انہیں مارکیٹ میں فروخت کر دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 34 ہاؤسنگ سوسائٹیاں تاحال 15 ہزار کنال سہولتی زمین سی ڈی اے کے نام منتقل نہیں کر سکیں۔ حال ہی میں جب یہ معاملہ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان کے نوٹس میں آیا تو انہوں نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ سہولتی زمین اپنے نام منتقل کروائی جائے اور اس ضمن میں نیب کی مکمل معاونت کی پیشکش بھی کی۔

نیب ذرائع کے مطابق اس معاملے پر نیب آفس میں متعدد اجلاس ہو چکے ہیں اور سی ڈی اے کو عملی اقدامات کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسی تناظر میں نیب کی سفارش پر سی ڈی اے نے ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور اپارٹمنٹ منصوبوں کو منظم کرنے کے لیے نئے قواعد متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ منظوری کے بعد صرف وہی پلاٹس اور اپارٹمنٹس فروخت کیے جا سکیں گے جو کسی اسکیم کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں شامل ہوں گے۔

مجوزہ قواعد کے تحت ہر ہاؤسنگ اسکیم اور اپارٹمنٹ منصوبے کے آپریٹر کو دبئی ماڈل کے مطابق اسکرو اکاؤنٹس کھولنا لازمی ہوگا۔ کسی مخصوص اسکیم سے حاصل ہونے والی آمدن صرف اسی اسکیم پر خرچ کی جا سکے گی اور اسے توسیع یا کسی دوسرے منصوبے پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ اسکرو اکاؤنٹس اسکیم کے مالک اور سی ڈی اے مشترکہ طور پر آپریٹ کریں گے اور فنڈز صرف اسی اسکیم کے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوں گے۔
گزشتہ ماہ جناح کنونشن سینٹر میں سیکٹر I-15 کے پلاٹس کے قبضہ لیٹرز کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی نیب راولپنڈی و اسلام آباد وقار احمد چوہان نے کہا تھا کہ “نیب، سی ڈی اے کے تعاون سے ہاؤسنگ سیکٹر میں شفافیت کے فروغ کے لیے نیا نظام متعارف کرا رہا ہے۔” انہوں نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت الاٹمنٹ لیٹرز پر بارکوڈز ہوں گے تاکہ جعلی دستاویزات کی روک تھام کی جا سکے، جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے اسکرو اکاؤنٹس کھولنا بھی لازمی قرار دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سی ڈی اے ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹس کی الاٹمنٹ کے لیے نئی معیاری عملی طریقۂ کار (SOP) تیار کر رہا ہے۔ الاٹمنٹ لیٹرز کی طباعت منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق پرنٹنگ کارپوریشن سے کروائی جائے گی۔ ان لیٹرز میں سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے اور ہر الاٹمنٹ لیٹر پر بارکوڈ ہوگا جس میں پلاٹ سے متعلق تمام ضروری معلومات موجود ہوں گی۔
یہ ڈیٹا سی ڈی اے کے اسٹیٹ مینجمنٹ ونگ کے متعلقہ افسر اور متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے افسر کے پاس محفوظ رہے گا۔ مجوزہ SOP کے مطابق الاٹمنٹ لیٹر پر پلاٹ کا سائز، پلاٹ نمبر، اسٹریٹ نمبر، ملحقہ پلاٹس کی تعداد، اسکیم کا نام اور منظور شدہ لے آؤٹ پلان کا حوالہ درج ہوگا۔ الاٹی کا نام متعلقہ سوسائٹی کی انتظامیہ درج کرے گی۔

کمرشل اور دیگر فروخت کے قابل پلاٹس کے لیے بھی اسی نوعیت کی SOP اپنائی جائے گی۔ مجوزہ SOP کے مطابق کمرشل یا اپارٹمنٹ عمارتوں میں، جہاں متعدد یونٹس منظور شدہ ہوں، بلڈنگ پلان کی منظوری کے بعد ہر یونٹ کا نمبر الاٹمنٹ لیٹر پر درج کیا جائے گا۔ ہر الاٹمنٹ لیٹر پر سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر (اسٹیٹ) اور متعلقہ سوسائٹی کے نمائندے کے دستخط ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں