0

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا عزم

سعودی چیف آف جنرل اسٹاف کا وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات

اسلام آباد کے دورے کے دوران سعودی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فایاض بن حامد الرویلی نے وزیراعظم شہباز شریف، ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل الرویلی کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی کی ہم آہنگی اور خطے میں استحکام کے حوالے سے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

گفتگو کا مرکزی نکتہ وہ تاریخی اسٹریٹجک دوطرفہ دفاعی معاہدہ تھا جو گزشتہ دو ماہ میں وزیراعظم کی ریاض میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران طے پایا۔ وزیراعظم نے اس معاہدے کو “سنگِ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اسے مشترکہ تربیت، فوجی مشقوں اور دفاعی مہارتوں کے تبادلے کے ذریعے عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان، مملکت کے ساتھ اپنے سیکیورٹی تعاون کو خطے کے امن کے لیے کلیدی حیثیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف دیرینہ عزم رکھتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کا تعاون اعتماد اور مشترکہ ایمان کی بنیاد پر قائم ہے، جو پاکستان کی خارجہ اور سلامتی پالیسی کا اہم ستون ہے۔

جنرل الرویلی نے سعودی قیادت کی جانب سے مبارکباد کا پیغام بھی پہنچایا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تعاون کو “نئی بلندیوں” تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کے لیے سعودی عرب کی مسلسل حمایت پر تشکر کا اظہار کیا اور کہا کہ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

اس ملاقات میں ڈپٹی وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی موجود تھے۔

پاک–سعودی عرب دفاعی معاہدہ

ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک تاریخی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس میں کہا گیا کہ:
“کسی بھی ایک ملک پر ہونے والی جارحیت دونوں ممالک پر جارحیت تصور ہوگی۔”
یہ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے ریاض کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر طے پایا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی کو بڑھانے، خطے اور دنیا میں امن کو فروغ دینے، دفاعی تعاون بڑھانے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے بھی گہرے اسٹریٹجک اور دفاعی روابط موجود رہے ہیں، تاہم حالیہ معاہدے کو موجودہ علاقائی صورتحال خصوصاً قطر پر اسرائیلی حملوں کے پس منظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں