پاکستان (6.1.26): ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی مفاہمت نہیں بلکہ قوت اور طاقت کے ذریعے کامیابی حاصل کرے گا۔ راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران گزشتہ ایک سال میں کیے گئے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پالیسی میں مکمل وضاحت موجود ہے، اور گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم، فیصلہ کن اور تاریخی سال ثابت ہوا جس میں کارروائیوں کی شدت غیر معمولی رہی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر پچھتر ہزار ایک سو پچھتر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کی اوسط روزانہ دو سو چھ بنتی ہے۔ ان میں سے چودہ ہزار چھ سو اٹھاون آپریشنز خیبر پختونخوا، اٹھاون ہزار سات سو اٹھہتر بلوچستان اور ایک ہزار سات سو انتالیس ملک کے دیگر حصوں میں کیے گئے۔ اسی دوران پانچ ہزار تین سو ستانوے دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، جن میں تین ہزار آٹھ سو گیارہ واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی میں اضافے کی بنیادی وجہ سیاسی اور دہشت گرد عناصر کا گٹھ جوڑ ہے، جبکہ گزشتہ سال کے دس بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث تمام عناصر افغان شہری تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں دو ہزار پانچ سو ستانوے دہشت گرد مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت مجموعی طور پر ایک ہزار دو سو پینتیس افراد نے جامِ شہادت نوش کیا، جنہیں انہوں نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ افغان سرزمین دہشت گردی کا مرکز بن چکی ہے جہاں سے مختلف دہشت گرد گروہوں کو پناہ اور کارروائیوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کی حکومت دہشت گرد تنظیموں کو آپریشنل بیس مہیا کر رہی ہے، جنہیں بھارت کی جانب سے مالی معاونت اور سرپرستی حاصل ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے چھوڑا گیا جدید اسلحہ بھی ان دہشت گرد گروہوں کے استعمال میں ہے۔