اسلام آباد (جنوری 2026,11)پاکستان اس وقت شدید سردی کی لہر کی زد میں ہے، جہاں شمالی پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری اور میدانی علاقوں میں سرد اور یخ ہواؤں نے موسم کو مزید سخت بنا دیا ہے۔
گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ میں درجۂ حرارت منفی 21 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے سے یہ ملک کا سرد ترین خطہ بن گیا۔ ایک بین الاقوامی موسمیاتی ویب سائٹ کے مطابق ہنزہ میں کم سے کم درجۂ حرارت منفی 20 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کوئٹہ میں اتوار کی صبح پارہ منفی ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی سردی کی شدت برقرار رہی، اسلام آباد میں درجۂ حرارت 2، لاہور میں 3، پشاور میں 4 اور کراچی میں 7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
بابوسر ٹاپ، نانگا پربت اور دیگر شمالی علاقوں میں وقفے وقفے سے ہونے والی برف باری نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا، جبکہ کئی مقامات پر سڑکوں کی بندش سے آمد و رفت متاثر ہوئی۔ ہنزہ میں منفی 21، استور میں منفی 19، چلاس میں منفی 11 اور قلات میں منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند اور یخ بستہ موسم کے باعث معمولاتِ زندگی درہم برہم ہو گئے، جس کے پیشِ نظر متعدد موٹرویز کو بند کرنا پڑا۔ حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے پر لاہور سے کوٹ مومن تک موٹروے ایم-2، فیض پور سے ڈارخانہ تک ایم-3 اور پنڈی بھٹیاں سے ملتان تک ایم-4 پر ٹریفک روک دی گئی۔
اسی طرح ملتان سے روہڑی تک موٹروے ایم-5 اور لاہور سے سمبڑیال تک ایم-11 کو بھی عارضی طور پر بند رکھا گیا۔ قومی شاہراہ پر لاہور، مانگا منڈی، پتوکی، اوکاڑہ، ساہیوال اور احمد پور شرقیہ کے علاقوں میں دھند کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی۔
میان چنوں، خانیوال، ملتان، بستی ملوک، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان اور صادق آباد میں بھی گہری دھند کے سبب گاڑیوں کی آمد و رفت میں مشکلات پیش آئیں۔