
ڈرامہ سیریل ’جمع تقسیم‘ کی حالیہ قسط میں ہراسانی کے مسئلے کو جس حقیقت پسندانہ اور جرات مندانہ انداز میں پیش کیا گیا، اس نے ناظرین کو گہرے اثر میں مبتلا کر دیا۔ قسط میں دکھایا گیا کہ قیس کی بھتیجی سدرہ طویل عرصے سے اپنے کزن ذیشان کی جانب سے ہراسانی کا شکار تھی، مگر خوف اور معاشرتی دباؤ کے باعث وہ خاموش رہی۔ اس قسط میں وہ منظر خاص طور پر دل دہلا دینے والا تھا جب گھر کے تمام افراد ایک دعوت پر چلے جاتے ہیں اور ذیشان موقع پا کر سدرہ کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
قیس کو جیسے ہی اس واقعے کی خبر ملتی ہے، وہ فوراً گھر پہنچ کر سدرہ کو ذیشان سے بچاتا ہے۔ قسط کے اختتام پر پورا خاندان اس واقعے پر غمزدہ دکھایا گیا، سوائے ذیشان کی ماں کے جو بیٹے کی حرکت کو لیلیٰ کی سازش قرار دیتی ہے۔ کہانی کے اس حصے نے ناظرین کو جھنجھوڑ دیا کیونکہ ڈرامے نے اس تلخ حقیقت کو سامنے لایا کہ ہراسانی کے بیشتر واقعات گھروں کے اندر ہوتے ہیں اور اکثر متاثرہ بچیاں اپنے ہی رشتوں کے ہاتھوں اذیت برداشت کرتی ہیں۔
ناظرین نے سوشل میڈیا پر ڈرامے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ ’جمع تقسیم‘ نے اس حساس موضوع کو بغیر مبالغہ آرائی کے پیش کیا، جو پاکستانی ڈراموں میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ متعدد خواتین نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنی بیٹیوں پر یقین کریں اور ان کے خوف کو سنجیدگی سے لیں۔ صارفین نے اسے ایک “حقیقی، تکلیف دہ مگر ضروری” پیشکش قرار دیا۔
ہراسانی کے مسئلے کے ساتھ ساتھ قسط میں جوائنٹ فیملی سسٹم کے دباؤ اور مذہبی غلط فہمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ لیلیٰ کا اپنے شوہر قیس سے الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ اس تنازعے کو جنم دیتا ہے کہ کیا بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض ہے یا یہ ذمہ داری بیٹے پر عائد ہوتی ہے۔ لیلیٰ اپنی دوست کے مشورے سے کہتی ہے کہ اسلام میں مشترکہ خاندانی نظام کوئی مذہبی اصول نہیں، بلکہ الگ رہنے کا فیصلہ ایک عورت کا حق ہے۔ قیس ابتدا میں اس بات پر ناراض ہوتا ہے، لیکن صورتحال کے بدلنے پر اسے احساس ہوتا ہے کہ لیلیٰ کا مؤقف درست ہے۔
اداکاروں کی مضبوط پرفارمنس، مکالموں کی حقیقت پسندی اور حساس موضوعات کو متوازن انداز میں دکھانے پر ناظرین نے اس قسط کو حالیہ عرصے کی بہترین پیشکش قرار دیا۔ سدرہ کے کردار میں دکھایا گیا درد، قیس کا ردعمل اور شفق (ذیشان کی بہن) کی شرمندگی نے کہانی کو جذباتی گہرائی دی۔
نقادوں کے مطابق ’جمع تقسیم‘ نے پاکستانی ڈراموں میں ایک نئی روایت قائم کی ہے، جس میں خاندانی نظام کی خوبصورتی کے ساتھ اس کے تلخ پہلوؤں کو بھی ایمانداری سے دکھایا گیا۔ ناظرین کو امید ہے کہ آنے والی اقساط میں بھی ایسے ہی سماجی مسائل کو حقیقت پسندانہ انداز میں اجاگر کیا جائے گا تاکہ معاشرے میں شعور اور مکالمہ دونوں کو فروغ مل سکے۔
0