0

بدلتا موسم، جاگتی زمیں — پاکستان کے ماحولیاتی لمحے کی کہانی

اسلام آباد، 22 اکتوبر 2025
آج اسلام آباد اور گردونواح میں موسم خوشگوار مگر غیر یقینی رہا۔ صبح کے اوقات میں ہلکی خنکی کے باوجود سورج کی تمازت دوپہر تک بڑھتی رہی۔ محکمہ موسمیات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں میں رات کے وقت ٹھنڈی ہواؤں میں اضافہ جبکہ جنوبی اور وسطی حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت برقرار ہے۔ بلوچستان کے کچھ میدانی علاقوں میں خشک ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جب کہ کراچی اور سندھ کے ساحلی حصوں میں نمی کی شرح قدرے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔

NDMA کے مطابق، ملک اس وقت بظاہر پرسکون موسمی مرحلے سے گزر رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس خاموشی کے نیچے چھپے ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں کے دوران بارشوں کے غیر متوقع نظام، درجہ حرارت میں اچانک اضافے اور ہیٹ ویوز نے ماحولیاتی نظام کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ اگر ہم نے ابھی سے اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی نہ کی تو آنے والے سالوں میں شدید خشک سالی، شہری سیلاب، اور زراعتی نقصانات ہمارے معمولات کا حصہ بن جائیں گے۔

ایک ماہرِ ماحولیات نے کہا:
“قدرت کے قانون کو چیلنج کرنے والا انسان آخر کار خود اپنی زمین سے اجنبی ہو جاتا ہے۔”

اسلام آباد میں آج کی فضا نسبتاً صاف تھی، مگر فضا میں موجود ہلکی گرد آلودگی اس حقیقت کی یاد دہانی کروا رہی تھی کہ فضائی آلودگی اب موسمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل خطرہ ہے۔ شہری علاقوں میں بڑھتا ہوا ٹریفک، درختوں کی بے دریغ کٹائی، اور صنعتی فضلے کے اخراج نے فضا کو دبا دیا ہے۔ NDMA نے اس صورتحال میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ درخت لگانے، پلاسٹک کے استعمال میں کمی لانے، اور توانائی کے متبادل ذرائع اپنانے جیسے اقدامات میں فعال کردار ادا کریں۔

ایک اور سائنسی محقق نے اپنی تحقیق میں کہا:
“زمین کو بچانے کے لیے بڑے منصوبے نہیں، چھوٹے مگر مخلص عمل درکار ہیں۔”

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے موسمیاتی تبدیلی محض قدرتی نہیں بلکہ سماجی چیلنج بھی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی، پانی کی قلت، اور بجلی کے بحران سب اس بدلتے نظام کی کڑیاں ہیں۔ NDMA کے مطابق، آنے والے ہفتوں میں شمالی علاقوں میں ہلکی بارشوں کا امکان جبکہ میدانی حصوں میں خشک موسم جاری رہے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وقت عمل کا ہے، انتظار کا نہیں۔ قدرت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا اب انتخاب نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے۔
جیسا کہ ایک شاعر نے کہا تھا:
“زمین ماں ہے، اس کی سانسیں بھی سنبھالو،
یہی بچھونا، یہی پناہ گاہ ہے، یہی کل کی کہانی ہے۔”

آج کا آسمان خاموش ضرور ہے، مگر زمین ہمیں پکار رہی ہے — سنو، کیونکہ وقت بدل رہا ہے اور شاید اب فطرت مزید انتظار نہ کرے۔

✍️ تحریر: زینت خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں