گرافک ہیلتھ وارننگ میں بہتری کیلئے پالیسیوں کومضبوط بنانے کی ضرورت ہے: ڈاکٹر مہیش کمار ملانی
تمباکو کے حوالے سے مزید مضبوط اقدامات عوام کے بہتر تحفظ میں مدد دیں گے: ڈاکٹر صوبیہ سومرو
اسلام آباد (بدھ 19 نومبر 2025) صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضی سولنگی نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق تمباکو اب بھی ایک بڑا عوامی صحت کا مسئلہ ہے، تمباکو کے سماجی اور معاشی اثرات سنگین ہیں اور پاکستان آگاہی، تعلیم اور عالمی بہترین پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے مؤثر ترقی کر سکتا ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاـ تفصیلات کے مطابق سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (اسپارک) نے “ڈبلیو ایچ او گلوبل ٹوبیکو ایپی ڈیمک رپورٹ 2025 اور تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ (TAPS) اور گرافک ہیلتھ وارننگز (GHWs) کی بہترین عالمی مثالیں” کے عنوان سے ایک مباحثہ کا انعقاد کیا تاکہ ڈبلیو ایچ او فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) اور اس کے MPOWER اقدامات کے تحت پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔ تقریب کے مہمان خصوصی صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضی سولنگی نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر سال تمباکو کے استعمال سے 80 لاکھ سے زیادہ اموات ہوتی ہیں جو ایچ آئی وی، تپِ دق اور ملیریا کی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہیں۔ پاکستان میں 2 کروڑ 70 لاکھ افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں جبکہ تمباکو نوشی کی وجہ سے سالانہ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار اموات ہوتی ہیں تمباکو کے سماجی اور معاشی اثرات سنگین ہیں اور پاکستان آگاہی، تعلیم اور عالمی بہترین پالیسیوں کے نفاذ کے ذریعے مؤثر ترقی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کمیونٹیز کو تمباکو کے نقصانات سے آگاہ کرنے اور احتیاطی ماحول فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیاـ پاکستان تمباکو کی تشہیر، فروغ اور اسپانسرشپ (TAPS) کے تمام راستوں کو کم کر کے اور گرافک ہیلتھ وارننگز (GHWs) کی نمایاں موجودگی بڑھا کر اپنی کوششوں کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے تاکہ قابلِ گریز صحت کے خطرات میں کمی لائی جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے چیئرمین ڈاکٹر مہیش کمار ملانی نے کہا کہ رپورٹ کے اعداد و شمار نوجوانوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں، پروموشنل سرگرمیاں، دلکش پیکجنگ، مختلف تقریبات کے ساتھ تعلق اور آن لائن موجودگی نوجوانوں کو متاثر کر سکتی ہے جن ممالک میں TAPS کی جامع پابندیاں نافذ ہیں وہاں نوجوانوں میں تمباکو کے استعمال میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے GHWs میں بہتری اور مؤثر نفاذ کے لیے پالیسیوں کے مضبوط کرنے پر زور دیا۔
رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے تاہم مزید مضبوط اقدامات عوام کے بہتر تحفظ میں مدد دیں گے۔ واضح اور مستقل ضوابط ضروری ہیں تاکہ TAPS میں وہ خلا پیدا نہ ہوں جو تمباکو کنٹرول کی کوششوں میں رکاوٹ بنیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بڑی اور تصویری GHWs تمباکو نوشوں کو اپنی عادت پر نظرثانی کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہیں اور نوجوانوں کو آغاز سے روکتی ہیں۔
سابق مشیر اطلاعات و پی آرز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا کہ TAPS اب بھی ایک ایسا پہلو ہے جس پر مستقل توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل پر مارکیٹنگ اور آن لائن تشہیر بڑے چیلنجز ہیں۔
اسپارک کے پروگرام مینیجر ڈاکٹر خلیل احمد ڈوگر نے کہا کہ اگرچہ پابندیاں موجود ہیں لیکن تشہیری سرگرمیاں اب بھی صارفین کے رویے کو باریک طریقے سے متاثر کرتی ہیں۔ اس سیشن میں پالیسی سازوں، صحافیوں، سول سوسائٹی نمائندگان، ماہرینِ تعلیم، میڈیا پروفیشنلز اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے GHWs کے نفاذ اور TAPS پر عملدرآمد کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت نیز ملک بھر میں تمباکو
کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے مربوط اقدامات اور بہتر ضوابط کی اہمیت پر زور دیا۔
