یوکرین کے اتحادی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے G20 اجلاس کے دوران امریکہ کے مجوزہ امن منصوبے کو ’’مزید مضبوط‘‘ بنانے پر غور کریں گے۔ یہ بات برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بتائی ہے۔
یوکرین کے اتحادی ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے G20 اجلاس کے دوران امریکہ کے مجوزہ امن منصوبے کو ’’مزید مضبوط‘‘ بنانے پر غور کریں گے۔ یہ بات برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بتائی ہے۔اجلاس ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے متنبہ کیا ہے کہ ملک اپنی تاریخ کے ’’انتہائی مشکل مرحلے‘‘ سے گزر رہا ہے، کیونکہ اسے اس منصوبے کو قبول کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، جس کی تفصیلات لیک ہونے کے بعد اسے روس کے حق میں جھکا ہوا قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر زیلنسکی نے جمعے کے روز برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ملاقات کے بعد برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین کے ’’دوست اور شراکت دار‘‘ ایک مستقل اور پائیدار امن یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن دونوں G20 اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے۔
امریکی منصوبے میں وہ تجاویز بھی شامل ہیں جنہیں یوکرین پہلے ہی مسترد کر چکا ہے، جن میں مشرقی علاقوں سے پسپائی اختیار کرنا بھی شامل ہے۔ واشنگٹن نے اس ہفتے اعلیٰ عسکری حکام کو کیف بھیجا تاکہ یوکرینی قیادت کو منصوبے پر آمادہ کیا جا سکے۔
یورپی ممالک میں اس منصوبے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ اسے روس کے حق میں جھکا ہوا سمجھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے اسے ’’انتہائی خطرناک لمحہ‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم سب چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہو، لیکن جنگ کس طرح ختم ہوتی ہے، یہ زیادہ اہم ہے۔ روس کو اس ملک سے کسی قسم کی رعایت لینے کا کوئی قانونی حق نہیں جس پر اس نے حملہ کیا۔‘‘
G20 اجلاس سے قبل برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ رہنما موجودہ امریکی تجاویز پر بات کریں گے اور’’صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کی حمایت میں ‘‘منصوبے کو مزید بہتر بنانے کے طریقے دیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین نے ہمیشہ روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی قبضہ ختم کرے، اپنے ٹینک واپس لے جائے اور ہتھیار ڈال دے، جبکہ روس مسلسل تاخیری حربے استعمال کرتا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے منصوبے کے تحت یوکرین کو اپنی فوج کا حجم کم کرنے اور نیٹو میں شمولیت سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جائے گا، جو کہ کریملن کا پرانا مطالبہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر منصوبہ منظور نہ ہوا تو یوکرین جلد مزید علاقہ روس کے ہاتھوں کھو دے گا۔ ان کے مطابق انہوں نے یوکرین کو جمعرات (امریکہ میں تھینکس گیونگ) تک کی آخری مہلت دی ہے۔
اس دوران روسی افواج محاذ کے مختلف حصوں پر آہستہ آہستہ پیش قدمی کر رہی ہیں، اگرچہ اسے بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
یوکرین اپنے دفاع کے لیے امریکی ہتھیاروں اور انٹیلی جنس پر بہت حد تک انحصار کرتا ہے۔
روسی صدر پوٹن نے اپنے سیکیورٹی اجلاس کے دوران تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے امن منصوبہ پیش کر دیا ہے، اور اسے بنیاد کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے، تاہم منصوبے پر تفصیلی بات چیت ابھی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ روس ’’لچک دکھانے‘‘ کو تیار ہے لیکن ضرورت پڑنے پر جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
کیف میں اپنے دفتر کے باہر 10 منٹ کے خطاب میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو ’’کمزور کرنے اور تقسیم کرنے‘‘ کی بڑی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی حکام اور اتحادیوں کے ساتھ متبادل تجاویز بھی رکھیں گے۔
زیلنسکی حالیہ مہینوں میں ایک ایسے نازک توازن میں ہیں جہاں انہیں یوکرین کے مفادات کا دفاع بھی کرنا ہے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھنے ہیں، جن کے ساتھ ان کا اس سال کے آغاز میں اختلاف سامنے آیا تھا۔
انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کے سامنے بہت مشکل فیصلہ آسکتا ہے یا تو قومی وقار داؤ پر لگے گا، یا ایک اہم اتحادی ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ منصوبہ یوکرین کی مشاورت کے بغیر بنایا گیا۔ ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسے یوکرین کے اعلیٰ سیکیورٹی مشیر رستم عمر اوف سے گفتگو کے فوراً بعد تیار کیا گیا، اور انہوں نے زیادہ تر نکات سے اتفاق کیا تھا۔
منصوبے کے لیک شدہ مسودے میں یوکرینی فوج کو مشرقی ڈونیٹسک کے ان حصوں سے دستبردار ہونے کا کہا گیا ہے جو اس وقت یوکرین کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ ڈونیٹسک، لُوہانسک اور 2014 میں قبضے میں لیا گیا کرائمیا عملی طور پر روس کے کنٹرول میں جائیں گے۔
اس وقت روس یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔
منصوبہ یہ بھی وعدہ کرتا ہے کہ یوکرین کو قابلِ اعتماد سیکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی، اگرچہ ان کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اس میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ روس مستقبل میں پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کرے گا اور نیٹو مزید وسعت اختیار نہیں کرے گا۔
مسودے میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ روس کو عالمی معیشت میں دوبارہ شامل کیا جائے، اس پر عائد پابندیاں ہٹائی جائیں اور اسے دوبارہ G7 میں شامل کر کے گروپ کو G8 بنایا جائے۔