فیصل آباد – قومی صحت خدمات کے وزیر مملکت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرت نے کہا ہے کہ حکومت بیماریوں کی روک تھام اور ہیپاٹائٹس، ذیابیطس اور دیگر غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط، جامع اور پائیدار اقدامات کر رہی ہے۔
یونیورسٹی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (UMDC) جامعہ فیصل آباد کے 11ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی آبادی سالانہ 2.5 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، جس سے صحت کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے، اور اس کے لیے صرف علاج نہیں بلکہ بروقت حفاظتی حکمتِ عملیوں کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے نئی نسل کے ڈاکٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنے کلینیکل فرائض کے ساتھ ساتھ بیماریوں کی روک تھام، عوامی آگاہی اور صحت کے فروغ میں بھی کردار ادا کریں تاکہ صحت کا نظام زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکے۔ انہوں نے کامیاب گریجویٹس، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کی ڈگریوں کو ’’پاسپورٹ‘‘ قرار دیا جو نہ صرف پاکستانی ڈاکٹروں کو عالمی سطح پر اہل ثابت کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا اور مشرق وسطیٰ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی اعلیٰ پوزیشنیں ہمارے مضبوط تعلیمی معیار، میرٹ اور معیاری میڈیکل ٹریننگ کا ثبوت ہیں۔
وزیر مملکت نے گریجویٹس کو نصیحت کی کہ وہ والدین کی عزت کریں کیونکہ انہی کی قربانیاں، حوصلہ افزائی اور دعائیں ان کی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کی بھی تعریف کی جنہوں نے طلبہ کو مہارت، اخلاقیات اور خدمت کے جذبے سے آراستہ کیا۔
ڈاکٹر مختار بھرت نے کہا کہ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کیونکہ مریض، معاشرہ اور اہلِ خانہ ڈاکٹر سے اعلیٰ علم، بہترین رویے اور خدمت کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہترین کردار اور شفقت، حضور اکرم ﷺ کی سیرت پر عمل، طب کے شعبے کے اخلاقی ستون ہیں اور مریض کی دیکھ بھال و معاشرتی خدمت کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے ملک کے اہم صحتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں جبکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر غیر متعدی امراض تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ اس لیے عوامی شعور اور حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے نصاب میں 99 فیصد حصہ علاج سے متعلق تھا، لیکن اب مستقبل کی تربیت میں ترجیح حفاظتی صحت کو دی جائے گی تاکہ ڈاکٹرز بیماریوں کی شرح میں واضح کمی لا سکیں اور صحت عامہ کو بہتر بنا سکیں۔
آخر میں انہوں نے UMDC کی کاوشوں کو سراہا اور گریجویٹس میں ڈگریاں اور میڈلز تقسیم کیے۔ انہوں نے نصیحت کی کہ ڈاکٹر اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو خدمت، علم، اخلاق اور انسانیت کی بنیاد پر استوار کریں۔