0

انرجی پرائسز اور بلند شرح سود کی وجہ سے معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی: عاطف اکرام شیخ

اسلام آباد (جمعہ 16 جنوری 2026) ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ اور سرپرست اعلیٰ یو بی جی و سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ مہنگی بجلی، گیس، بلند شرح سود، بھاری ٹیکسز اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے صنعتیں بند اور بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ مضبوط معیشت چاہتے ہیں تو صنعت کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ مضبوط صنعت ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔

حکومت فوری طور پر ملک میں معاشی ایمرجنسی نافذ کرے۔ توانائی نرخوں میں استحکام، صنعت دوست پالیسیاں، سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہی ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی کیپٹل آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور طارق جدون، ذکی اعجاز، چیئرمین کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چیئرمین کوآرڈینیشن ملک سہیل حسین، جنرل سیکرٹری یو بی جی ظفر بختاوری سمیت طارق صادق چیئرمین فاؤنڈر گروپ آئی سی سی آئی، کاشف کھوکھر صدر قصور چیمبر، سردار میاں ندیم جالندھر صدر ننکانہ صاحب چیمبر، خالد چوہدری و دیگر بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ صنعتیں کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی صنعتی ترقی مختلف رکاوٹوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انرجی پرائسز، بلند شرح سود اور دیگر چیلنجز کی وجہ سے معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی۔ ہماری صنعتوں کو درپیش سنگین چیلنجز اہم ترین قومی مسئلہ ہے۔ توانائی کے بلند نرخوں نے پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلند پیداواری لاگت کی وجہ سے ہماری صنعتیں عالمی منڈی میں مقابلے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔ بار بار پالیسیوں میں تبدیلی، اضافی ٹیکسز صنعتکاروں کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نظام سادہ، شفاف اور طویل المدتی ہو۔ درآمدی خام مال کی مہنگائی اور بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ شرح سود اس وقت زیادہ سے زیادہ سنگل ڈیجیٹ 9 فیصد پر ہونا چاہیے۔ مسائل کی وجہ سے بہت ساری صنعتیں یہاں سے منتقل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر معیشت اور صنعتوں کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کریں۔ توانائی نرخوں میں استحکام، صنعت دوست پالیسیاں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہی ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ اگر ہم نے آج ان مسائل کو حل نہ کیا تو ملک میں بیروزگاری کا ایک سیلاب آئے گا جبکہ صنتیں مکمل بند ہو جائیں گی۔ اگر ہم واقعی مضبوط معیشت چاہتے ہیں تو صنعت کو ترجیح دینا ہوگی کیونکہ مضبوط صنعت ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیٹرن انچیف یو بی جی و سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان کی معیشت کے حوالے سے رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے۔ معیشت کی یہی صورتحال رہی تو ہمیں واپس آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں 140 سے 150 ٹیکسٹائل کے بڑے یونٹ بند ہو چکے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ ٹیکسز اور پالیسیوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند ہونے کی وجہ سے 40 کے قریب انڈسٹریز متاثر ہوئی ہیں۔ ملک میں صنعتیں بند ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں انرجی کے ریٹ ساڑھے 12 سینٹ ہیں جبکہ خطے میں 6 سے 7 سینٹ ہے۔ پاکستان میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں شرح سود دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ ساڑھے 10 فیصد شرح سود کو کم کر کے جون تک 6 فیصد پر لایا جائے۔ وزیراعظم سے اپیل ہے کہ جلد فیصلے کریں جو انڈسٹری بچی ہوئی ہے اسے بچا لیں۔ جو انڈسٹری بند ہو گئی یا چلی گئی وہ واپس نہیں آئے گی۔ ملک میں 7500 میگاواٹ اضافی بجلی موجود ہے جس کے کیپسٹی چارجز ہمیں ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی بجلی کے مراعاتی پیکج کو مسترد کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ کسی انڈسٹری کو 22 روپے یونٹ کے حساب سے بل نہیں آیا بلکہ 35 روپے کے حساب سے آ رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں