0

مہنگائی کے مارے عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلنے کے بجائے فوری ریلیف فراہم کیا جائے: سید امان شاہ

پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ اور کاروباری اخراجات بڑھ رہے ہیں

برآمدی صنعتوں کے لیے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی فوری طور پر معطل کیا جائے: صوبائی صدرعوام پاکستان پارٹی۔بلوچستان

کراچی(بدھ 10 ستمبر 2026) :عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر سید امان شاہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ حکومت عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ روکے اور فوری ریلیف فراہم کرے۔ سید امان شاہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات نہیں بڑھتے بلکہ اشیائے خورونوش، سبزی، پھل، زرعی اجناس اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء بھی مہنگی ہوجاتی ہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع و پسماندہ صوبے میں اس کے اثرات مزید شدید ہوتے ہیں، جہاں دور دراز علاقوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات پہلے ہی زیادہ ہیں۔ عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر سید امان شاہ نے کہا کہ حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے غیر ضروری اخراجات میں کمی، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور معیشت کے پیداواری شعبوں کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہر چند روز بعد پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کا بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں پر نظرثانی کرکے عوام کو حقیقی ریلیف دیا جائے اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر اور مستقل پالیسی اختیار کی جائے۔ سید امان شاہ نے مطالبہ کیا کہ برآمدی صنعتوں کے لیے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) فوری طور پر معطل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدفی مالی سہولت صنعتوں کو ضروری مالی تحفظ فراہم کرے گی اور ملک کے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے برآمدی شعبے کو محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر سید امان شاہ نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs)، جو پاکستان کی برآمدی سپلائی چین کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں محدود مالی وسائل رکھتے ہیں اور موجودہ صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات کے باعث ایس ایم ایز کو فوری طور پر شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ اگر بروقت اور ہدفی اقدامات نہ کیے گئے تو فیکٹریوں کی بندش، پیداواری شفٹوں میں کمی اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری ناگزیر ہو سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں