اسلام آباد (ہفتہ31 اکتوبر 2026): ثقافتی قونصلیٹ جمہوریہ اسلامی ایران اور سلک روڈ کلچرل سنٹر کے باہمی اشتراک سے میناب کے شہید بچوں کی یاد میں ایک خصوصی ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد ایران پر مسلط کردہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جنگ کے نتیجے میں بے گناہ شہید ہونے والے معصوم بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ امن، انسانیت اور بچوں کے حقوق کا پیغام عام کرنا تھا۔

اس پروگرام کے مہمانوں میں پاکستان میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر جناب ڈاکٹر رضا امیری مقدم، سابق وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اور معروف پاکستانی فنکار جناب جمال شاہ اور ثقافتی قونصلیٹ جمہوریہ اسلامی ایران جناب مجید مشکی شامل تھے۔

پروگرام کے دوران پاکستانی بچوں نے میناب کے شہید بچوں کی یاد میں ایک خصوصی تھیٹر پیش کیا۔ اس کے علاوہ فارسی اور اردو زبانوں میں ترانے پیش کیے گئے۔ انسانی المیے پر مبنی ایک فلم دکھائی گئی جبکہ جنگ کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے پوسٹرز اور تصاویر کی نمائش بھی منعقد کی گئی۔

اس موقع پر پاکستان میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر جناب ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معصوم بچوں کی یاد میں منعقد اس پروگرام کو قابل تحسین قرار دیا اور بچوں کی معصومیت، انسانی جان کے احترام اور امن کے قیام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اثرات سب سے زیادہ بچوں کی زندگیوں اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے اس نوعیت کی ثقافتی سرگرمیوں کو عوام کے درمیان انسانی ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔

سابق وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اور معروف پاکستانی فنکار جناب جمال شاہ نے پاکستانی بچوں کی جانب سے پیش کیے گئے تھیٹر اور دیگر فن پاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فنون لطیفہ انسانی جذبات، دکھ اور احساسات کے اظہار کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کو جنگ، تشدد اور نفرت کے بجائے امن، محبت اور باہمی احترام کا ماحول فراہم کرنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ثقافتی قونصلر اسلامی جمہوریہ ایران جناب مجید مشکی نے اس پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنے والے تمام اداروں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے میناب کے بچوں کی یاد میں اس پروگرام کا انعقاد انسانی ہمدردی، ثقافتی یکجہتی اور پاکستان و ایران کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کے اظہار کی ایک اہم کوشش ہے۔ انہوں نے پاکستانی بچوں کی شرکت اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ثقافت و فنون لطیفہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
