0

اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں تبدیلی نہیں کی، مہنگائی اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی۔

کراچی(14 ستمبر 2026): اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پیر کو پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق موجودہ شرحِ سود درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے مناسب ہے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کا یہ فیصلہ 10 میں سے 7 ارکان کی اکثریتی رائے سے کیا گیا۔ SBP کے مطابق حالیہ ملکی معاشی اعدادوشمار مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہے، جبکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔

مرکزی بینک نے بتایا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح اگست میں بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد تھی۔ تاہم بنیادی مہنگائی توقعات کے مقابلے میں قدرے کم رہی۔ ہفتہ وار حساس قیمتوں کے اشاریے میں بھی 10 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر 8.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

SBP کے مطابق کارکنوں کی ترسیلاتِ زر اور مالیاتی آمدن میں اضافے کے باعث بیرونی کھاتے پر دباؤ محدود رہا۔ اسی دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے، جبکہ ملک نے عالمی کیپٹل مارکیٹ سے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کے ذریعے بھی مالی وسائل حاصل کیے۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو عالمی معیشت کے لیے اہم خطرہ قرار دیا۔ کمیٹی کے مطابق تنازع میں اضافے سے عالمی اجناس کی قیمتیں بڑھی ہیں اور سپلائی چین میں رکاوٹیں برقرار ہیں، جس سے پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ پاکستان کے درآمدی اخراجات اور مہنگائی پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔ SBP نے کہا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث معاشی منظرنامے میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے اور مرکزی بینک صورتحال پر قریبی نظر رکھے گا۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ حالات میں محتاط زری اور مالیاتی پالیسی اختیار کرنے کے ساتھ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے مالی ذخائر اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ SBP کے مطابق قیمتوں کے استحکام کے لیے آئندہ فیصلے ملکی و عالمی معاشی اعدادوشمار اور بدلتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں