راولپنڈی (جمعرات 21 مئی 2026ء) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے شراکت دار بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کے ساتھ مل کر ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل انقلاب کا ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں جہاں مجموعی ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کا حجم 5 .4 ارب روپے تھا،توقع ہے کہ اس موجودہ سال میں ہم پچھلے سال کے اعداد و شمار کو عبور کر لیں گے اور ڈیجیٹل لین دین پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہونے کی امید ہے۔”

آج 21 مئی 2026ء کو راولپنڈی کی بھاٹہ مویشی منڈی میں واقع “بینکنگ پویلین” میں. 10 شراکت دار بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں (جیز کیش، ایزی پیسا، بینک اسلامک ایک ڈیجیٹل، سونیری، جے ایس زندگی، بینک الحبیب، یو بی ایل، ایچ بی ایل، بینک الفلاح، میزان , البرکہ) کے ہمراہ ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
قائم شدہ بینکنگ پویلین میں عام عوام کو ڈیجیٹل لین دین کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، بینک کی ٹیمیں ریئل ٹائم مسائل کے حل کے لیے موجود ہوتی ہیں۔

تقریب میں ممتاز شخصیات نے شرکت کی جن میں صوبائی اسمبلی پنجاب کے رکن ملک افتخار، صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت، سینئر ڈپٹی چیف منیجر اسٹیٹ بینک عمر صدیق خٹک , بینک اسلامک کے سی ای او اشفاق احمد، ڈیجیٹل ہیڈ بینک اسلامک ایک ڈیجیٹل غضنفر عباسی، نارتھ ہیڈ جیز کیش علی چوہدری، نیز مویشی منڈیوں کے مرکزی ٹھیکیدار معین خان و مصطفیٰ بلوچ شامل تھے۔
اس موقع پر چیف منیجر اسٹیٹ بینک راولپنڈی رضوان خلیل شمسی نے کہا کہ “گو کیش لیس” مہم کے تحت 13 بڑی مویشی منڈیوں میں بینکوں اور فن ٹیک کمپنیوں کے اسٹالز اور نمائندے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے بیوپاریوں اور خریداروں کو رجسٹر کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی، چکوال، تلہ گنگ، دینہ، کلر سیداں سمیت 13 منڈیوں میں مکمل ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام قائم کر دیا گیا ہے۔
صوبائی اسمبلی کے رکن ملک افتخار، صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت , شرکاء اور عام شہریوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں نے جعلی نوٹوں، چوری اور ڈکیتی کے خوف کو ختم کر دیا ہے۔ بیوپاریوں نے بھی اس شفاف اور محفوظ عمل کو اپناتے ہوئے اسٹیٹ بینک کا شکریہ ادا کیا۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور نقدی لین دین سے متعلق وارداتوں پر قابو پانے میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ عیدالاضحیٰ کے دوران مزید ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز متوقع ہیں۔