0

حکومت بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ ساتھ تاجروں کے مسائل پر بھی خصوصی توجہ دے

اسلام آباد (جمعہ 17 اپریل 2026) اسلام آباد کے تاجروں کی بڑی تعداد آج سراپا احتجاج ہے ، تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت ہم سے مختلف مد میں کروڑوں ٹیکس ، ڈیوٹیز ، یوٹیلیٹی بلز اور اضافی اخراجات کی مسلسل وصولیاں تو کررہے ہیں مگر تاجروں کے مسائل ، تجارت کرنے کے لئے مناسب ماحول اور سیکیورٹی دینے میں ناکام ہے ۔ شہر اقتدار کے تاجر ایک جانب ٹیکس اور دیگر سختیوں اور اخراجات کا شکار ہیں تو دوسری جانب اسمارٹ لاک ڈاؤن جیسی اضافی مصیبت کا بھی شکار ہو رہے ہیں ، ہر بار براہ راست بوجھ تاجروں پر ڈالا جارہا ہے ۔خاص طور پر چھوٹے تاجر جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں براہ راست بوجھ اور دیگر اضافی اخراجات و سختیوں کی وجہ سے سخت اذیت کا شکار ہیں ، تاجر حکومت وقت اور ذمہ داروں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ملکی مفادات اور اضافی بوجھ صرف اور صرف تاجروں کے حصے میں آئے گا ، اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز کے سابق صدر سجاد سرور ، آل پاکستان ایسوسی ایشن آف ہیلتھ اینڈ میڈیکل آرگنائزیشنز کے چیئرمین سعید جان مروت ، صدر ملک سجاد ، جنرل سیکرٹری عبدالوحید بابی ، اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز کے سابق صدور ، رانا ایاز ، طاہر آرائیں ، چودھری سعید گجر ، ہیلتھ ایسوسی ایشن کے سینئیر نائب صدر طاہر نواز ، نائب صدر زید احمد ، ایگزیکٹو ممبر ، قیصر شاہ ، نعمان سعید و دیگر تاجر حضرات نے مشترکہ بیان میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تاجروں کے مسائل پر خصوصی توجہ دیں اور موجودہ حالات میں تاجروں سے سختی کے بجائے نرمی اور مناسب سہولیات و ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں