0

ٹرمپ کی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے کی تعریف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے ایک مضبوط اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے

اسلام آباد(17اگست2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے بالآخر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مل کر اپنے ممالک سمیت پورے خطے کے دفاع اور امن کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

مکہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع اور مشترکہ دفاعی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ کسی ایک رکن پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول بھی شامل ہے۔

ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق معاہدے کے تحت سیاسی اور عسکری سطح پر مختلف طریقۂ کار تشکیل دیے جائیں گے اور دفاعی صنعت میں تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔

پاکستانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق معاہدہ ان ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنے پر آمادہ ہوں۔

ترکیہ نے مستقبل میں مزید علاقائی ممالک کی شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ کویت، بحرین اور صومالیہ سمیت بعض ممالک نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی علاقائی ممالک کے درمیان تعاون پر مبنی سکیورٹی نظام کی حمایت کا عندیہ دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں