0

ایڈوانسڈ انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں لیور ٹرانسپلانٹ پروگرام شروع کرنے والا تیسرا ہسپتال بن گیا

اسلام آباد (جمعرات 10 ستمبر 2026): ایڈوانسڈ انٹرنیشنل ہسپتال (AIH)، جی-8 مرکز اسلام آباد نے آج اپنے لیور ٹرانسپلانٹ پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جس کے بعد یہ وفاقی دارالحکومت میں جگر کی پیوند کاری کی اس انتہائی پیچیدہ اور زندگی بچانے والی سرجری کی سہولت فراہم کرنے والا تیسرا ہسپتال بن گیا ہے۔

اس پروگرام کا آغاز پاکستان میں جگر کی پیوند کاری کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر ایک اہم پیش رفت ہے۔ اندازاً ہر سال پاکستان میں تقریباً 5,000 مریضوں کو لیور ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ دستیاب سہولیات اس ضرورت کے مقابلے میں محدود رہی ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی، خیبر پختونخوا اور ملحقہ علاقوں کے مریضوں کو اکثر علاج کے لیے لاہور یا بیرونِ ملک سفر کرنا پڑتا ہے۔

افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر حافظ عمر فاروق، کنسلٹنٹ ہیپاٹو بلیری و لیور ٹرانسپلانٹ سرجن نے مریضوں کی تشخیص، لسٹنگ، زندہ متعلقہ ڈونر کی جانچ، ٹرانسپلانٹ سرجری، خصوصی ٹرانسپلانٹ آئی سی یو اور طویل مدتی فالو اَپ پر مشتمل مکمل طبی طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ ڈاکٹر عمر فاروق پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI)، لاہور میں 1,000 سے زائد لیور ٹرانسپلانٹس اور 500 سے زائد بڑے ہیپاٹو بلیری آپریشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر محمد مجیب خان، میڈیکل ڈائریکٹر، AIH نے کہا کہ ہسپتال جگر کے سروسس، آخری درجے کے جگر کے امراض، ایکیوٹ لیور فیلئر اور بعض جگر کے سرطان کے مریضوں کے لیے ایک جامع کثیرالجہتی طبی سروس قائم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے ہیپاٹولوجی، کریٹیکل کیئر، اینستھیزیا، کارڈیالوجی اور طویل مدتی فالو اَپ سمیت مختلف شعبوں کا مربوط انداز میں کام کرنا ضروری ہے۔

تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر مظفر لطیف گِل، ڈاکٹر عمران یوسف، ڈاکٹر شازلی منظور، پروفیسر ڈاکٹر راؤ سہیل، پروفیسر ڈاکٹر محمد حنیف سمیت ہسپتال کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور طبی عملے نے شرکت کی۔

200 بستروں پر مشتمل ایڈوانسڈ انٹرنیشنل ہسپتال 24/7 ایمرجنسی و کریٹیکل کیئر، جدید تشخیصی سہولیات، ماڈیولر آپریشن تھیٹرز، بلڈ بینک اور پہلے سے قائم کڈنی ٹرانسپلانٹ پروگرام کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔

نئے لیور ٹرانسپلانٹ پروگرام کے ذریعے AIH کا مقصد وفاقی دارالحکومت اور گردونواح میں جدید جگر کی طبی سہولیات تک رسائی کو مزید بہتر بنانا اور مریضوں کو علاج کے لیے دیگر شہروں یا بیرونِ ملک جانے کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں