0

مکہ دفاعی اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے، فی الحال توسیع کا کوئی منصوبہ نہیں: دفترِ خارجہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی اتحاد کا مقصد خطے میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اتحاد کو مزید ممالک تک وسعت دینے پر اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔

اسلام آباد( 10 ستمبر 2026): ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد بنیادی طور پر ایک دفاعی معاہدہ ہے، جس کا مقصد علاقائی سلامتی کو یقینی بنانا اور مؤثر دفاعی تعاون کے ذریعے خطرات کی روک تھام ہے۔

ترجمان کے مطابق اس وقت اتحاد میں مزید ممالک کو شامل کرنے کا کوئی فیصلہ زیرِ غور نہیں۔ پہلے تینوں رکن ممالک اپنے درمیان تعاون، تنظیمی ڈھانچے اور طریقۂ کار کو مزید مضبوط کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ اتحاد ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے ڈھانچے، طریقۂ کار اور دیگر معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا، جبکہ اس کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا۔ اجلاس میں اتحاد کے لیے سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان کے ایک سیکریٹری جنرل کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ مستقبل میں ایسے ممالک جو اتحاد کے مقاصد اور مؤقف سے اتفاق رکھتے ہوں، ان کے لیے شمولیت کا راستہ کھولا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال توسیع کے حوالے سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں