0

ایران کی سربلندی ، امام خمینی کی دور اندیشی اور رہبر شہید کی قیادت کی مرہون منت

اسلام‌آباد (بدھ 3 جون 2026) امام خمینی (رح) کے یومِ رحلت کی مناسبت پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔

اس موقع پر مقررین نے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے انقلابی اور اتحاد پیدا کرنے والے جذبے کو سراہا اور مظلوم قوموں کے دفاع اور ظلم سے نجات دلانے میں ان کے کردار کو خراج عقیدت پیش کیا۔

مقررین نے کہا کہ ایران کی سربلندی امام خمینی (رح) کی بدولت ہے اور شہید رہبر انقلاب، آیت اللہ العظمی خامنہ‌ای (رح) کے خون نے امریکہ اور صیہونی حکومت کے مقابلے میں ایران کی استقامت و مزامحت کی طاقت میں مزید اضافہ کیا ہے۔

امام خمینی (رح) کے 37ویں برسی کے موقع پر ایک پروگرام ، اسلام آباد میں ایران کے سفارت خانے میں منعقد ہوا ۔

اس موقع پر پاکستان کی معروف سیاسی و مذہبی شخصیات، دانشور، اساتذہ اور صحافیوں نے شرکت کی۔

پاکستانی شخصیات: ایران کی سربلندی ، امام خمینی کی دور اندیشی اور رہبر شہید کی قیادت کی مرہون منت

انہوں نے شہدائے جنگ رمضان اور شہید رہبر انقلاب، آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ‌ای (رح) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امام خمینی (رح) کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں، خطے اور عالمی سطح پر ایران کے انقلاب کے اثرات، خصوصا اسلامی اقدار کے تحفظ اور استکبار کے خلاف جدوجہد میں امام خمینی کے نقطہ نظر پر روشنی ڈالی۔

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اپنی تقریر میں ذی الحج کے مبارک مہینے اور امام خمینی (رح) کی برسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ اس عظیم رہنما کی رحلت کے 37 سال بعد بھی ایران اور دنیا کی مظلوم قومیں امام خمینی (رح) کے راستے، افکار و نظریات کی پیروی کر رہی ہیں۔

انہوں نے امام خمینی (رح) اور شہید رہبرِ انقلاب، آیت اللہ سید علی خامنہ‌ای (رح) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہید امام نے اپنے رہبرِ مرحوم کا راستہ اپنایا اور اپنی زندگی اسلام اور مسلمانوں کی آزادی کے لیے قربان کر دی۔

اس پروگرام میں پاکستان کی معروف شیعہ شخصیت آیت اللہ سید ساجد علی نقوی، ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف علی خان درانی، سینیٹر کامران مرتضیٰ (جمیعت علمائے اسلام)، قومی اسمبلی کی رکن سحر کامران (پیپلز پارٹی)، جماعت اسلامی کے نائب سربراہ لیاقت بلوچ، علامہ سید جواد نقوی (تحریک بیداری امت مصطفی)، اور پاکستان کے سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے ایرانی قوم کے انقلابی جذبے اور امام خمینی (رح) کی قیادت میں حریت پسندی کی تحریک کو آگے بڑھانے کے ان کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی اور شہید رہبر انقلاب، آیت اللہ العظمی خامنہ‌ای (رح) نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ اسلام، قوموں کو عزت، کامیابی، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستانی شخصیات: ایران کی سربلندی ، امام خمینی کی دور اندیشی اور رہبر شہید کی قیادت کی مرہون منت

ان پاکستانی شخصیات نے کہا کہ امام خمینی (رح) ایک زندہ جاوید حقیقت ہیں اور اسلامی انقلاب نے تمام استکباری طاقتوں کو اس طرح چیلنج کیا کہ آج تک استکبار اور سلطنت پسند، دنیا کی بہادر قوموں اور ان تمام ممالک و اقوام کا مقابلہ نہیں کر سکے جو انصاف و آزادی کے خواہاں ہیں۔

آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ آج امام خمینی (رح) کا راستہ اور افکار ان تمام لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں زندہ ہیں جو دنیا میں ظلم و تسلط پسندی سے پاک اور عزت و آبرو کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

سحر کامران نے کہا کہ دشمنوں نے ایران کی قوم کے خلاف انسانیت سوز جرائم کرکے خود کو رسوا کر دیا جبکہ ان جرائم کی وجہ سے ایران کی قوم کی طاقت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی شخصیات: ایران کی سربلندی ، امام خمینی کی دور اندیشی اور رہبر شہید کی قیادت کی مرہون منت

لیاقت بلوچ نے کہا کہ امام خمینی (رح) صرف کسی ایک معاشرے یا ملک تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا راستہ اور افکار دنیا کی تمام حریت پسند اقوام کے لیے درسگاہ ہیں ، اس لیے آج ہم سب کو امام خمینی کے افکار کا ازسر نو مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مشاہد حسین سید نے تیسری مسلط کردہ جنگ میں ایران کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کی استقامت کی جڑیں امام خمینی (رح) کے جامع افکار، ان کی عرفانی، الٰہی اور خدا کی معرفت رکھنے والی شخصیت اور شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ‌ای (رح) کی حکیمانہ قیادت میں پوشیدہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں