0

شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کی توقعات کے مطابق نہیں: صدر ایف پی سی سی آئی

بلند شرح سود سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، معاشی ترقی کیلئے شرح سود میں نمایاں کمی کی جائے، عاطف اکرام شیخ
شرح سود میں کمی سے صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ، نجی شعبے کو سستے قرضوں کی سہولت، روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے

اسلام آباد (سوموار 14 ستمبر 2026) : صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے شرح سود برقرار رکھنے کا سٹیٹ بینک کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروباری برادری کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ کم شرح سود کی بھی ضرورت ہے، شرح سود میں کمی سے نجی شعبے کو سستے قرضوں کی سہولت اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

پیر کو صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری عاطف اکرام شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کاروباری برادری کی توقعات کے مطابق نہیں، شرح سود میں فوری کمی کی جائے، بلند شرح سود سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، شرح سود میں کمی سے صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ بلند شرح سود پیداواری لاگت میں اضافے اور کاروباری مشکلات کا باعث بن رہی ہے، حکومت اور اسٹیٹ بینک معاشی ترقی کیلئے شرح سود میں نمایاں کمی کا فیصلہ کریں، شرح سود میں کمی سے نجی شعبے کو سستے قرضوں کی سہولت اور روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ کم شرح سود کی بھی ضرورت ہے، ملک میں کاروبار اور معاشی نمو تیز کرنے کے لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں