درخواست میں قانونی جواز، شفافیت اور طریقۂ کار پر سوالات؛ حتمی عدالتی فیصلہ تاحال باقی
اسلام آباد (سوموار 19 اکتوبر 2026): اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق اور دو ممبران پربھو لال ستیانی اور نادیہ بی بی کی مدتِ ملازمت میں توسیع کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواست پر مدعا علیہان کو نوٹسز جاری کرنے اور جواب طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔


جسٹس خادم حسین سومرو نے 27 اگست 2026ء کو دائر آئینی درخواست نمبر W.P. No. 4198/2026 کی سماعت کی۔ ایڈووکیٹ وجاہت علی، نیشنل کوآرڈینیٹر چائلڈ رائٹس موومنٹ (CRM)، چیئرمین نیشنل ایکشن اینڈ کوآرڈینیشن گروپ (NACG) اور دیگر درخواست گزاروں نے وزارتِ انسانی حقوق کے 2 اپریل اور 8 جون 2026ء کے نوٹیفکیشنز کو چیلنج کیا ہے۔ ان نوٹیفکیشنز کے ذریعے NCRC کی چیئرپرسن اور سندھ/اقلیتوں اور خیبر پختونخوا کی نمائندگی کرنے والے دو ممبران کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔
درخواست گزاروں کے قانونی اعتراضات:
درخواست گزاروں کے مطابق، متنازعہ توسیعات شفافیت، میرٹ اور متعلقہ قانونی و انتظامی طریقۂ کار کی پابندی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ متعلقہ آسامیوں کے لیے قومی اخبارات میں اشتہارات شائع نہیں کیے گئے اور نہ ہی قابلِ اطلاق قوانین، بھرتی کے قواعد اور وفاقی حکومت کی ایم پی اسکیلز پالیسی 2020ء میں مدتِ ملازمت کے کنٹریکٹ میں توسیع کے لیے مقررہ طریقۂ کار کی پابندی کی گئی۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ مدتِ ملازمت میں توسیع پانے والے عہدیداران کو مبینہ طور پر ماضی سے مؤثر توسیع، تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر مالی فوائد دیے گئے۔
درخواست گزاروں نے بالخصوص دو ممبران کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے وقت اور اس کے اثرات پر اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، مذکورہ ممبران کی مدتِ ملازمت میں توسیع کمیشن کی دوسری مدت ختم ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد کی گئی۔ درخواست گزاروں نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ ان توسیعات کو کمیشن کی دوسری مدت سے منسلک کرنے کے نتیجے میں تنخواہوں اور دیگر مراعات پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔
درخواست گزاروں کا مزید مؤقف ہے کہ کمیشن کی دوسری مدت کے بعض دیگر ممبران کو اسی نوعیت کی توسیع نہ دیے جانے سے آئینِ پاکستان میں درج مساوی مواقع، قانون کے سامنے برابری اور عدم امتیاز کے اصولوں کے حوالے سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
درخواست میں چیئرپرسن کے بیک وقت متعدد سرکاری اور نجی عہدوں پر فائز ہونے کے معاملے پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ نکات درخواست گزاروں کے مؤقف اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی اعتراضات پر مشتمل ہیں۔ ان اعتراضات اور الزامات کی قانونی حیثیت کا حتمی تعین عدالت نے کرنا ہے۔
عدالتی کارروائی اور زیرِ التوا متفرق درخواست:
درخواست گزاروں کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مدعا علیہان کو نوٹسز جاری کرنے اور جواب طلب کرنے کا حکم دیا۔ مقدمے کو مزید سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
درخواست گزاروں نے ایک متفرق درخواست کے ذریعے استدعا کر رکھی ہے کہ متنازعہ توسیعات سے مستفید ہونے والے عہدیداران کو آئینی درخواست کے حتمی فیصلے تک اپنے عہدوں پر کام کرنے سے روکا جائے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، متفرق درخواست پر تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔ لہٰذا نوٹسز کا اجرا توسیعات کی معطلی یا درخواست گزاروں کے حق میں حتمی عدالتی فیصلے کے مترادف نہیں ہے۔ اس معاملے پر آئندہ عدالتی کارروائی اہمیت کی حامل ہوگی۔
شفافیت، احتساب اور بچوں کے حقوق کا تناظر:
نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ایک اہم قومی ادارہ ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق، کمیشن کے اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں اور مدتِ ملازمت میں توسیع کے معاملات میں قانونی تقاضوں، شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کو یقینی بنانا ادارے کی ساکھ، خودمختاری اور مؤثر کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔
موجودہ عدالتی کارروائی ان قانونی اعتراضات اور متعلقہ طریقۂ کارکی خلاف فرضی سے پیدا ہونے والے سوالات کے عدالتی جائزے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تاہم، متنازعہ توسیعات کے قانونی جواز اور درخواست میں اٹھائے گئے نکات پر حتمی فیصلہ عدالت کی آئندہ کارروائی اور فیصلے سے مشروط ہے۔
اہم وضاحت: یہ معاملہ تاحال زیرِ سماعت ہے۔ اس پریس ریلیز میں بیان کردہ اعتراضات درخواست گزاروں کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں اور انہیں عدالت کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔