اسلام آباد (جمعرات 15 اکتوبر 2026): اسلامی نظریاتی کونسل کا 247واں اجلاس مؤرخہ 15اکتوبر 2026ء بروز جمعرات چیئرمین کونسل ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیرصدارت منعقد ہوا، اجلاس میں علامہ طاہر محمود اشرفی، ڈاکٹر انتخاب احمد نوری، پیر شمس الرحمن، رانا شفیق خان پسروری، صاحبزادہ حافظ محمد امجد، سید عتیق الرحمٰن بخاری، علامہ یوسف اعوان اور علامہ افتخار حسین نقوی شریک ہوئے،جبکہ سید سعید الحسن اور ڈاکٹر عزیر محمود الازہری آن لائن شریک ہوئے۔ اجلاس میں مختلف شرعی، قانونی اور قومی امور پر غور کیا گیا۔
• کونسل نے ملک میں امن و امان کی خرابی ہوتی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی سطح پر آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے بعد آبنائے باب المندب میں حوثیوں کی مداخلت کے باعث جہازرانی اور بحری آمدورفت کو درپیش مشکلات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اسی طرح کھلے سمندر میں صومالی قزاقوں کے حملوں کے نتیجے میں تین پاکستانیوں کی شہادت پر کونسل نے افسوس کا اظہار کیا اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی۔
• اجلاس میں محرم الحرام کے دوران استعمال ہونے والے جھنڈوں اور بینرز کے احترام سے متعلق رنگ ٹونز کی منظوری دی گئی۔
• کونسل نے قرار دیا کہ مذہبی چینلز کو بھی دیگر چینلز کی طرح لائسنس جاری کیا جائے، محض این او سی دینے پر اکتفا نہ کیا جائے، اس حوالے سے قوانین اور قواعد میں ترمیم لائی جائے۔
• کونسل نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی طرف سے پیش کردہ “مسلم عائلی قوانین (والد کا نفقہ) ترمیمی بل 2026ء”، کی تحسین کی اور بعض ترامیم کے ساتھ اس سے اتفاق کیا۔
• اجلاس میں نابالغ بچوں اور بیویوں کے گزشتہ عرصے کے نان و نفقہ کی وصولی کے معاملے میں قانونِ میعادِ سماعت 1908ء کے آرٹیکل 120کے اطلاق کی شرعی حیثیت پر بھی غور کیا گیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ میعادِ سماعت گزرنے کے باوجود واجب الادا حقوق ختم نہیں ہوتے۔
• وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کی تحسین کی گئی، جس میں قادیانی جماعت کی ایک کتاب پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے اور ایسی پابندی کو اظہار رائے کی آزادی سے متصادم قرار نہیں دیا۔
• سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی تحسین کی گئی، جس میں توہین رسالت کے مرتکب قیصر ایوب کی سزائے موت برقرار رکھی گئی، اس فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے واقعات ایک حقیقت ہیں۔
• چادر اور پرچی جیسی رسومات کے خاتمہ سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے تناظر میں کونسل نے قرار دیا کہ خواتین کی جائیداد اور وراثت کو محفوظ کرنے کے مقدمات جلد نمٹانے کے لیے ایک مخصوص وراثتی ٹربیونل قائم کیا جائے ۔
0