پاکستانی کینو سمیت زرعی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں: صدر آئی سی سی آئی
تاجروں کے کاروبار اور روزگار کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا: محمد اشفاق چٹھہ
فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ سے تجاوزات کا خاتمہ اور جدید سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے: محمد وقاص خان سواتی
اسلام آباد (منگل 3 نومبر 2026): اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد زکریا اکبر ضیاء نے اسلام آباد فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کے تاجر رہنماؤں اور کاروباری برادری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ چیمبر مارکیٹ کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ان کی بھرپور معاونت کرے گا اور تاجروں کے کاروبار اور روزگار کا تحفظ اولین ترجیح رہے گا۔ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ آئی الیون ون کے ایک مشترکہ وفد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مارکیٹ کے نمائندوں کے اتحاد، عزم اور محنت کو سراہا اور کہا کہ اسلام آباد سمیت ملحقہ علاقوں میں تازہ پھلوں اور سبزیوں کی بلا تعطل فراہمی میں اس مارکیٹ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مارکیٹ کے مسائل پر مناسب توجہ نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے صفائی ستھرائی، اسٹریٹ لائٹس، فٹ پاتھ، مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے اور بالخصوص تجاوزات جیسے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے مارکیٹ کی مجوزہ منتقلی سے متعلق تاجروں کے تحفظات کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مارکیٹ سے وابستہ سینکڑوں کاروباروں اور ہزاروں افراد کے روزگار کو ہر صورت تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ چیمبر ان تمام معاملات کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے گا اور ان کے جلد حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا۔
پاکستان کے زرعی شعبے کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے محمد ذکریا اکبر ضیاء نے کہا کہ پاکستانی پھلوں اور سبزیوں، بالخصوص کینو، کی عالمی منڈیوں میں نمایاں مانگ موجود ہے، جبکہ روس سمیت متعدد بین الاقوامی منڈیاں پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے اہم مواقع فراہم کر سکتی ہیں۔ انہوں نے مارکیٹ کے تاجروں کے لیے استعداد کار بڑھانے کے پروگرام شروع کرنے، بین الاقوامی تجارتی وفود میں ان کے نمائندوں کی شمولیت، پیکجنگ اور سپلائی چین کے معیار کو بہتر بنانے اور نئی برآمدی منڈیوں کی تلاش کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کاروباری برادری کا وسیع تر طبقہ عالمی تجارت کے مواقع سے مستفید ہو سکے۔
اس موقع پر فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایسوسی ایشن کے صدر بابو علیم نے آئی سی سی آئی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مارکیٹ کے مسائل متعلقہ حکام کے سامنے اٹھانے کے لیے بروقت تعاون اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پاکستان کی بڑی ہول سیل فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹوں میں سے ایک ہے، جہاں 600 سے زائد کاروباری ادارے کام کر رہے ہیں اور یہ اسلام آباد، راولپنڈی، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع کو پھلوں اور سبزیوں کی فراہمی کا اہم مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کی تجارتی سرگرمیوں سے لاکھوں افراد کا روزگار براہ راست یا بالواسطہ وابستہ ہے۔
آئی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدر اور ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل طاہر ایوب نے سی ڈی اے کی جانب سے مارکیٹ کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجر باقاعدگی سے بھاری پراپرٹی ٹیکس اور واٹر کنزرویشن چارجز ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود مارکیٹ میں بنیادی سہولیات اور ترقیاتی کاموں کی صورتحال تسلی بخش نہیں۔ انہوں نے مالی سال 2025-26 کے پی ایس ڈی پی کے تحت مارکیٹ کی بحالی اور ترقی کے لیے مختص کیے گئے 530 ملین روپے کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقریباً 300 ملین روپے جاری ہونے کی اطلاعات کے باوجود زمینی سطح پر خاطر خواہ ترقیاتی کام دکھائی نہیں دے رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مختص فنڈز کے استعمال کی تفصیلات واضح کی جائیں، سی ڈی اے اور مارکیٹ کمیٹی کے درمیان انتظامی اختیارات کے مسائل حل کیے جائیں، مارکیٹ کی تجاوزات اور غیر قانونی طور پر استعمال ہونے والی اراضی واگزار کرائی جائے اور اس کی ہول سیل حیثیت سمیت تاجروں کے جائز تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
طاہر ایوب نے مارکیٹ کی ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا، جس میں سڑکوں کی بہتری، نکاسی آب، صفائی، پانی کی فراہمی، پارکنگ، جدید نیلامی گراؤنڈز اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے۔ انہوں نے نادرن ایریاز ٹرانسپورٹ کمپنی (نیٹکو) سمیت غیر متعلقہ اداروں کے زیر استعمال مارکیٹ کی اراضی کے معاملے پر بھی آئی سی سی آئی قیادت سے مداخلت کی درخواست کی۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مارکیٹ کے مسائل کے حل کے لیے تاجر برادری میں اتحاد اور اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ نمائندوں کو مل بیٹھ کر مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے تاکہ مسائل کے حل کے لیے مؤثر انداز میں پیش رفت کی جا سکے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر قیادت کاروباری برادری کو سازگار ماحول اور آسانیاں فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور تاجروں کے روزگار اور کاروباری مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد وقاص خان سواتی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ چیمبر کی موجودہ قیادت نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ایک دن بھی ضائع نہیں کیا اور کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں اور حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فروٹ اینڈ ویجیٹیبل مارکیٹ کے مسائل کے حل، تجاوزات کے خاتمے اور مارکیٹ کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔
تقریب کی نظامت آئی سی سی آئی کے ایگزیکٹو ممبر محمد سہیل چوہدری نے کی۔ اس موقع پر مارکیٹ کے دیگر کاروباری رہنماؤں چوہدری وسیم، چوہدری ارشد، عامر رفیق، رضوان فاروق، ارسلان جاوید اور حاجی شبیر نے بھی خطاب کیا اور مارکیٹ کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں افتخار انور سیٹھی، اسرار مشوانی، سید عمران بخاری، ملک راشد طفیل، رانا استخار، ابرار الحق، مظہر حسین اور دیگر کاروباری نمائندوں نے بھی شرکت کی۔