پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کو فروغ دینا ہوگا: زکریا اکبر ضیاء
اسلام آباد (بدھ 21 اکتوبر2026): روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کو تجارت کے غیر استعمال شدہ مواقع سے آگے بڑھتے ہوئے مضبوط اور نتیجہ خیز کاروباری شراکت داری قائم کرنی چاہیے تاکہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے وسیع امکانات سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ اقتصادی مفادات کو ٹھوس تجارتی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ضروری ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد زکریا اکبر ضیاء سے چیمبر ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ دوطرفہ تعاون کے روشن امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر نے صحت، ادویہ سازی، زراعت، غذائی تحفظ، سیاحت، کھیلوں کے سامان اور جراحی کے آلات کی صنعت کو باہمی طور پر مفید تجارت اور سرمایہ کاری کے اہم شعبے قرار دیا۔
تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے ویزا طریقہ کار کو آسان بنانے، براہِ راست فضائی رابطے قائم کرنے اور بینکاری و ادائیگیوں سے متعلق مسائل کے مؤثر حل پر زور دیا۔ انہوں نے دوطرفہ بزنس فورم کے انعقاد کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں کاروباری اداروں کے درمیان پیشگی ملاقاتوں کے ذریعے ممکنہ شراکت داروں کی نشاندہی اور ٹھوس کاروباری تجاویز تیار کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ اس موقع پر ایران، افغانستان اور چین کے راستے بہتر ٹرانسپورٹ روابط کو بھی دوطرفہ تجارت میں سہولت پیدا کرنے کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
سفیر نے تعلیم، سائنس، انجینئرنگ اور زرعی تحقیق کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے جامعات کے درمیان شراکت داری اور طلبہ کے تبادلوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے روسی زبان کی تدریس، ثقافتی تبادلوں اور میڈیا و تخلیقی صنعتوں کے درمیان تعاون کو باہمی تفہیم اور عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے کے اہم ذرائع قرار دیا۔
آئی سی سی آئی کے صدر محمد زکریا اکبر ضیاء نے کہا کہ پاکستانی اور روسی کاروباری شخصیات کے درمیان مشترکہ منصوبے قائم کرنے کی ضرورت ہے، بالخصوص توانائی، اسٹیل اور دیگر صنعتی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنا کر دوطرفہ تجارتی مواقع کو قابلِ عمل سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک میں صنعتی ترقی کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے پاکستان میں مستقل اور طویل المدتی اقتصادی پالیسیوں کی تشکیل پر بھی زور دیا اور کہا کہ ایسی پالیسیاں نجی شعبے، بالخصوص ایوان ہائے صنعت و تجارت کی قیادت، سے مشاورت کے بعد مرتب کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کا تسلسل، قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی ماحول اور حکومت و کاروباری برادری کے درمیان مؤثر رابطہ کاری سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی مسابقت میں اضافے اور پائیدار بین الاقوامی تجارتی شراکت داریوں کے قیام کے لیے ناگزیر ہیں۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر محمد اشفاق حسین چٹھہ نے بھی پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مسلسل سفارتی روابط اور عملی کاروباری تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں آئی سی سی آئی کے سابق صدر محمد اعجاز عباسی، کونسل ممبر چوہدری مسعود اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین عباس ہاشمی، شاہد عباسی، محمد نعمان، محمد خورشید، زوہیب ارشد ملک اور اسرار مشوانی سمیت کاروباری برادری کے دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔