از قلم: عائشہ فاطمہ
عیشؔ بہار! کہتے ہیں کہ خواب وہی حقیقت بنتے ہیں جنہیں دیکھنے کا حوصلہ بھی ہو اور انہیں جینے کا عزم بھی۔ جب ارادے یقین کی روشنی میں ڈھل جائیں اور محنت عبادت کا درجہ اختیار کر لے تو تقدیر خود انسان کے قدموں میں راستے بچھا دیتی ہے۔ کچھ کہانیاں صرف لکھی نہیں جاتیں بلکہ اپنے وجود سے زمانے پر ثبت ہو جاتی ہیں؛ اور یہی وہ داستانیں ہوتی ہیں جو تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہیں۔

ایسی ہی ایک داستان محترمہ صاحبزادی خان کے نام سے جڑی ہوئی ہے، جنہوں نے خوابوں کو محض خیال نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں ایک عالمی حقیقت میں ڈھال دیا۔
خانیوال کے ایک سادہ سے قصبے سے تعلق رکھنے والی اس باہمت اور باصلاحیت شخصیت نے 2019 میں اپنے آن لائن سفر کا آغاز کیا۔ یہ ایک خاموش ابتدا تھی، مگر اس کے پیچھے ایک بلند وژن اور مضبوط ارادہ کارفرما تھا۔ 2021 میں انہوں نے اپنے خواب کو عملی شکل دیتے ہوئے ایک رجسٹرڈ پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی، جس نے تعلیم، ہنر اور خودمختاری کے نئے در وا کیے۔
اسی وژن کی روشنی میں “صاحبہ رائٹنگ اسکواڈ” اور “ویژن آف ویمن” جیسے باوقار ادارے وجود میں آئے۔ یہ ادارے محض تنظیمیں نہیں بلکہ ایک فکری انقلاب کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جہاں خوابوں کو سمت، صلاحیتوں کو پہچان اور خواتین کو خودمختاری، قیادت اور شناخت کا شعور عطا کیا جاتا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے ہزاروں نوجوان، خصوصاً خواتین، نہ صرف مہارتیں حاصل کر رہی ہیں بلکہ خود اعتمادی، خودی اور خودمختاری کی نئی منزلوں تک بھی پہنچ رہی ہیں۔
اسی مسلسل جدوجہد اور بصیرت افروز قیادت کا ایک درخشاں اظہار وہ خواب تھا جس نے سرحدوں کو عبور کیا؛ دنیا کے مختلف ممالک سے خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر سراہنا۔ بظاہر یہ ایک مشکل ہدف تھا، مگر جب ارادے بلند ہوں تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔
بالآخر 25 اور 26 اپریل 2026 کو یہ خواب حقیقت کا روپ دھار گیا، جب ایو وژن ایوارڈ 2026 ایک شاندار عالمی آن لائن تقریب کے طور پر منعقد ہوا۔ یہ دو روزہ ایونٹ محض ایک تقریب نہیں بلکہ خواتین کی طاقت، عزم اور کامیابی کا عالمی جشن تھا؛ ایک ایسا جشن جس نے دنیا کے مختلف خطوں کو ایک ہی احساس میں پرو دیا۔
پہلا دن زندگیوں کی داستانوں کے نام رہا، جہاں منتخب خواتین کی سوانح عمریاں پیش کی گئیں۔ یہ محض تعارف نہ تھے بلکہ جدوجہد، صبر، قربانی اور استقامت کی وہ کہانیاں تھیں جو سننے والوں کے دلوں میں امید کی نئی روشنی پیدا کر گئیں۔ ہر نام کے پیچھے ایک سفر تھا؛ اور ہر سفر کے پیچھے ایک خاموش جدوجہد؛ ایسی جدوجہد جو ہار کے بجائے کامیابی میں ڈھل گئی۔
دوسرا دن اعزاز اور اعتراف کا دن تھا، جہاں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ان کی خدمات، صلاحیتوں اور کامیابیوں کے اعتراف میں نوازا گیا۔ یہ لمحہ فخر، خوشی اور جذبات کا حسین امتزاج تھا، جہاں ہر ایوارڈ ایک خواب کی تکمیل اور ایک محنت کی پہچان بن کر سامنے آیا۔
اس عالمی تقریب کی سب سے دلکش جھلک اس کی بین الاقوامی وسعت تھی۔ یہ وہ منظر تھا جہاں دنیا سمٹ کر ایک پلیٹ فارم پر آ گئی؛ پاکستان سے سعودی عرب، ترکی سے متحدہ عرب امارات، افغانستان سے ارجنٹینا، کینیڈا سے برطانیہ، امریکہ سے نائجیریا، بھارت سے کینیا، اور پھر یورپ، افریقہ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ تک؛ ایک ایسا منظرنامہ جہاں جغرافیہ مٹ گیا اور صرف “خواتین کی طاقت” باقی رہ گئی۔
اس عظیم الشان ایو وژن ایوارڈ 2026 میں جن باوقار خواتین شخصیات کو اعزازات اور نامزدگیوں کے لیے شامل کیا گیا ان میں عائشہ فاطمہ، سیریت فاطمہ، ایلیسن، رینڈی ڈی وارڈ، سملی مکتا، الزبتھ ایلس لیون، رمشاء ریاض، نیاب ایچ کیو، ڈاکٹر مبارکہ، ملیکہ صدیقہ، منیزہ قریشی، رباب فاطمہ، نابیہ، فاطمہ وہاب، رامین سمر، زرینہ رانی، ویویانا سینولی، اریبہ سرور، امینہ فاطمہ، کومل رضوی، ایکتا، اقرا سرور، سحرش، لاریب جہانزیب، لاریب جاوید، اسما لطیف، سعدیہ خان، عائشہ محمود، اقصیٰ راجپوت، آصفہ جمالی، زینب مصطفیٰ، بینش منیر، ونی مویكالی کیولا، حبیبہ عرفان، ماریہ الوکوزے، رفعت آراء، سارہ نوئت، ڈاکٹر تسنیم بی بی، رحیمہ حسین، ڈاکٹر خدیجہ نجم، اسما شیخ، عائشہ خان، جرگینہ چوہان، امینہ آفتاب، مریم جان، عائشہ نذیر، نجلا، تابندہ، صالحہ خلیل، سیدہ سعدیہ عنبر جیلانی، لائبہ اعظم، خدیجہ نجم، چیڈو میکسین، سیما ارشد، اچیری کانسٹنس، زنیرہ رحمان، آمنہ فاروق، مبشرہ طیبہ، حانیہ فہیمی، ازکا، ساتوری یوسفی، مسترا کوکلام، اقصیٰ نمسان، سونم قومی، اسما حسین، مدیحہ عارف، آمنہ سلیم خان، آمنہ شوکت، مریم اصغر، جبین فاطمہ، ڈاکٹر میمونہ علیم، انشراح راہو، بسیرہ عثمان، سساسینکوسی، حانیہ علی، پروفیسر ڈاکٹر شولی مکھرجی، طوبیٰ نورالایمان، سائمہ آصف آغا، ہرا خان، زیلجکا جوانو، زیولیلے بینکس نسیوا، عروج طارق، امان فراز درانی، علیشا خان، ڈاکٹر نوین، ایبی، انم، عافیہ امین، ماہی خان، نیلوفر، اقصیٰ نعمان، برانڈی پیٹرسن، کلارا چمیزدی، سینیٹیا ہولن، سنتھیا مرجح، ڈاکٹر اوموٹولا، الزبتھ، ایسٹر یوسوکو، حانیہ فہیمی اور اسرت شامل ہیں، جو اپنی اپنی جگہ ایک مکمل داستان ہیں۔ یہ تمام نام محض افراد نہیں بلکہ حوصلے، عزم اور کامیابی کی زندہ مثالیں ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن چکی ہیں۔
تقریب کو مزید وقار اور فکری گہرائی معزز مقررین نے بخشی، جن میں محترمہ صاحبزادی خان بطور موڈریٹر جلوہ گر ہوئیں، جبکہ ایلیسن رینیو، عصمت طارق، احتشام الحق، پروفیسر ڈاکٹر عرفان خان، عمار جعفری، افنان مشعل اور ساجد اقبال نے اپنے بصیرت افروز خیالات سے شرکاء کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیا۔ ان کی گفتگو نے اس ایونٹ کو ایک فکری تجربہ اور تعمیری مکالمہ بنا دیا۔
اس ایونٹ کا ایک نہایت خوبصورت پہلو ایوارڈ یافتگان کے تاثرات بھی تھے۔ آنکھوں میں خوشی، لہجوں میں شکرگزاری اور دلوں میں فخر؛ یہ سب اس بات کا ثبوت تھے کہ یہ تقریب محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک یادگار احساس بن چکی ہے۔ دنیا بھر سے موصول ہونے والا مثبت فیڈبیک اس کی کامیابی کی واضح دلیل ہے۔
اس عظیم کامیابی کے پسِ منظر میں ان دونوں اداروں کی پوری ٹیم کی انتھک محنت، خلوص اور لگن شامل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ ان کی مشترکہ کاوشیں اس بات کی گواہ ہیں کہ عیشؔ بہار! جب نیت خالص ہو اور مقصد بلند ہو تو کامیابی خود انسان کے قدم چومتی ہے۔
یہ کامیابی صرف ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک پاکستانی بیٹی کے وژن کو سراہا جا رہا ہے، اور خواتین عالمی سطح پر اس کوشش کو خراجِ تحسین پیش کر رہی ہیں۔ یہ سفر صرف آغاز ہے؛ ایک ایسی داستان کا آغاز جو آنے والے وقتوں میں مزید روشن ابواب رقم کرے گی۔
”عیشؔ بہار! یقین، محنت اور خواب جب ایک عورت کے وجود میں یکجا ہو جائیں تو وہ وقت کے دھارے میں اپنی پہچان ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیتی ہے۔“