0

پاکستان ہیلتھ پروفیشنلز آرگنائزیشن ڈسپنسر فیڈریشن کا ملک گیر کنونشن، PMDC کے خط کی شدید مذمت

اسلام آباد (جمعرات، 30 اپریل 2026) پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز آرگنائزیشن/ڈسپنسر فیڈریشن کے زیراہتمام منعقدہ ملک گیر کنونشن میں شریک قائدین کا جڑانوالہ پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔ کنونشن کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک، نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔

کنونشن میں ملک بھر سے قائدین نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت ملک منیر احمد چیئرمین پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز آرگنائزیشن نے کی، جبکہ مہمانِ خصوصی شرافت اللہ یوسفزئی مرکزی صدر آل پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن و سربراہ مشاورتی کمیٹی برائے ڈسپنسر ٹیکنالوجی پاکستان شریک ہوئے۔

ڈسپنسر ٹیکنالوجی کے سکوپ آف پریکٹس کی ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین سید انصر ہمدانی، ممبران عبدالعزیز جلبانی اور سعید گل مری نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔

آل پاکستان پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل محمد ارشد خان، سرپرست اعلیٰ سراج الدین برکی، چیئرمین ملک یوسف، سینئر وائس چیئرمین پرویز خان، سینئر نائب صدر اے ڈی کنول، فنانس سیکرٹری فضل قیوم، پمز ہسپتال کے سینئر نائب صدر ملک ذیشان اور مسعود قریشی نمائندہ اسلام آباد نے شرکت کی۔

خیبر پختونخوا سے PPMA کے صوبائی سینئر صدر تاج محمد، جوائنٹ سیکرٹری سمیع الرحمان، گل شیر خان، محمد امین اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

سندھ سے مرکزی و صوبائی راہنماؤں میں خالد حسین جٹ، ساون بلوچ، خالد سموں، بلوچستان محمد شعیب مری نے شرکت کی۔ گلگت بلتستان سے سردار غلام حسین شریک ہوئے۔

پنجاب سے مرکزی و صوبائی لیڈران قاضی محمود الحق، منیر احمد ضیاء، کھوکھر صاحب، شہزاد انور، شاہد پنسوتا، اے پی پی اے کے امجد علی رضا سندھو، وائی پی اے کے سرپرست اعلیٰ ملک شکیل، نذیر احمد گھمن، ایکٹیو اے ایچ پی کے میاں محمد نعیم، سی ڈی سی پنجاب کے صوبائی راہنما تجمل جٹ کے علاوہ دیگر درجنوں قائدین نے شرکت کی.
مقررین نے پی ایم ڈی سی کی طرف سے وزیر صحت کو ارسال کردہ خط کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے غیر قانونی و غیر اخلاقی عمل قرار دیتے ہوئے PMDC کی سنگین غلطی کہا۔ تمام مقررین نے پی ایم ڈی سی کی ڈکٹیشن پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

مہمانِ خصوصی شرافت اللہ یوسفزئی نے پی ایم ڈی سی کی طرف سے اے ایچ پی اور فارمیسی کونسل کو بلا وجہ تنقید کا نشانہ بنانے پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے ہر فورم پر ڈاکٹرز حضرات کا احترام کیا لیکن جواب میں بغیر سوچے سمجھے ہم پر عطائیت کا لیبل لگانے کے لیے پی ایم ڈی سی کو پریشرائز کر کے من پسند لیٹر لکھوایا گیا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں