دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور امریکہ و ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد( 30جولائی، 2026):پاکستان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کو گزشتہ ماہ طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے (MoU) کے تحت دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اگرچہ حالیہ دنوں میں نسبتاً پُرسکون رہی، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور تشویشناک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا مستقل حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کی بحالی، آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسلام آباد مفاہمتی معاہدے اور پاکستان۔قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے جرمن نشریاتی ادارے DW کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام پر نشر کی گئی دستاویزی فلم کو گمراہ کن اور یک طرفہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محفوظ، ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔
ترجمان نے بھارت کی جانب سے پاکستانی سرکاری میڈیا کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کو بھی آزادیٔ اظہار کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آزاد صحافت کے لیے بھارت میں محدود ہوتی ہوئی گنجائش واضح ہوتی ہے۔