آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہ ہوسکی، بجلی کی وائرنگ اور آکسیجن پائپوں سمیت مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری؛ کمیٹی نے فائر سیفٹی، عملے کی موجودگی اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دیے
اسلام آباد(28 اگست 2026): قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا دورہ کرکے نرسری میں لگنے والی ہولناک آگ کے واقعے کا جائزہ لیا۔ کمیٹی کے چیئرمین مہیش کمار ملانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ فنی خرابی معلوم ہوتی ہے، تاہم واقعے کے اصل سبب کا حتمی تعین ابھی نہیں ہوسکا۔
مہیش کمار ملانی کے مطابق عملے کی جانب سے آگ لگنے کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ بعض افراد نے بجلی کی تاروں میں اسپارک، جبکہ بعض نے آکسیجن سے متعلق خرابی کا امکان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ آگ کہاں سے شروع ہوئی، اس لیے تکنیکی ماہرین کی مدد سے معاملے کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
کمیٹی نے پمز انتظامیہ سے اسپتال میں ہونے والی فائر ڈرلز، آخری فائر آڈٹ، فائر الارمز کی کارکردگی اور بجلی و آکسیجن کے نظام کی جانچ سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ کمیٹی ارکان نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملہ کہاں تھا اور آگ لگنے کے بعد بچوں کو بروقت محفوظ کیوں نہ کیا جاسکا۔
کمیٹی چیئرمین نے نرسری کی عمارت کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حصہ 1990 میں تعمیر کیا گیا تھا اور نومولود بچوں کے لیے موزوں نہیں تھا۔ ان کے مطابق اسپتال میں نئی اور بہتر سہولیات سے لیس عمارت موجود ہونے کے باوجود بچوں کو پرانی عمارت میں رکھا گیا۔
کمیٹی کی رکن شازیہ صدیقی اسلم سومرو نے عملے کے بیانات میں تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور وفاقی وزیر صحت سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب کمیٹی رکن عالیہ کامران نے بھی واقعے کی تحقیقات میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جانا چاہیے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں کارروائی ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ 26 اگست 2026 کو پمز کے مادر و بچہ مرکز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے بھی واقعے کے حقائق جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی ہے۔