نیکی اور خدمتِ انسانیت کا اجر ہمیشہ باقی رہتا ہے:مفتی عبدالرحیم
سابق کاروباری رہنما محمد اکبر ضیاء کی رسمِ قل، دعاؤں اور تعزیتی کلمات کے ساتھ ادا
اسلام آباد (منگل 27 اکتوبر 2026): دنیا کی زندگی عارضی ہے لیکن نیکی، حسنِ اخلاق اور خدمتِ انسانیت انسان کی ایسی یادگار ہیں جو اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز عالمِ دین، سرپرست اعلیٰ جامعہ الرشید اور چانسلر الغزالی یونیورسٹی مفتی عبدالرحیم نے معروف کاروباری شخصیت، سابق صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور سابق نائب صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری محمد اکبر ضیاء کی رسمِ قل کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرحوم، اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد ذکریا اکبر ضیاء کے والد تھے۔
مفتی عبدالرحیم نے موت کی حقیقت، صبر و استقامت اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر انسان نے بالآخر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ انہوں نے نیکی، دیانت داری، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کو زندگی کا شعار بنانے کی تلقین کی اور مرحوم کی مغفرت، بلندیِ درجات اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
معروف معالج اور سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے مرحوم محمد اکبر ضیاء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی حقیقی پہچان اس کے عہدوں یا کامیابیوں سے بڑھ کر اس کے کردار، لوگوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرے پر مثبت اثرات سے ہوتی ہے۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔
رسمِ قل میں کاروباری برادری کے رہنماؤں، صنعت کاروں، تاجروں، مختلف چیمبرز آف کامرس کے عہدیداران، سیاسی و سماجی شخصیات، عزیز و اقارب اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور فاتحہ خوانی کرتے ہوئے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
مرحوم محمد اکبر ضیاء سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر اور AZP (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ تقریب کے اختتام پر مرحوم کی مغفرت، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور سوگوار خاندان کے لیے صبر و ہمت کی دعا کی گئی۔