اسلام آباد: (9 جولائی 2026) انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران چار رینجرز اہلکاروں کی ہلاکت کے مقدمے کے مرکزی ملزم ہاشم عباسی کو ذہنی طور پر ٹرائل کے لیے فِٹ قرار دیتے ہوئے باقاعدہ عدالتی کارروائی شروع کرنے کی اجازت دے دی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی تقریباً آٹھ ماہ سے التوا کا شکار مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو گیا۔
عدالتی سماعت کے دوران استغاثہ نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پیش کی، جس میں ہاشم عباسی کو ذہنی طور پر صحت مند قرار دیا گیا۔ عدالت نے رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہوں کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا۔ میڈیکل رپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث مقدمے کی کارروائی گزشتہ آٹھ ماہ سے رکی ہوئی تھی۔
دسمبر 2025 میں عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لینے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی مقدمے کی مزید کارروائی آگے بڑھائی جائے۔
استغاثہ کے مطابق ہاشم عباسی پر الزام ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران ڈیوٹی پر موجود رینجرز اہلکاروں پر اپنی گاڑی چڑھا دی، جس کے نتیجے میں چار اہلکار جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ وہ اس مقدمے میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزد ہیں۔
رامنہ تھانے میں درج مقدمے کی ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، بشریٰ بی بی، سابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور دیگر رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302 (قتل)، 324 (اقدامِ قتل)، 120-بی (مجرمانہ سازش) اور 114 (جرم کے وقت معاون کی موجودگی) کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل ہیں۔
استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر رینجرز اہلکاروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی نیت سے لینڈ کروزر ان پر چڑھائی، جبکہ ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی پی ٹی آئی قیادت کی ہدایات پر کی گئی۔ واقعے کے بعد ملزم کو شاہین چوک کے قریب گرفتار کر لیا گیا اور گاڑی بھی پولیس تحویل میں لے لی گئی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا تھا کہ وہ رینجرز اہلکاروں کو نہیں دیکھ سکا کیونکہ وہ اچانک گاڑی کے سامنے آ گئے تھے۔ تحقیقاتی رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ ملزم ممکنہ طور پر منشیات کے اثر میں تھا، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صرف یہ عنصر مقدمے کو خودکار طور پر دانستہ قتل کا مقدمہ قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔
میڈیکل بورڈ کی جانب سے ملزم کو ذہنی طور پر فِٹ قرار دیے جانے کے بعد عدالت نے باقاعدہ ٹرائل شروع کرنے اور استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کا حکم دے دیا۔