0

وفاقی بجٹ عوامی توقعات اور ملکی ضروریات کے برعکس ہے: سید امان شاہ، تاجر رہنماء و صوبائی کنوینئر اے پی پی

وفاقی بجٹ میں مہنگائی سے پریشان عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں دیا گیا۔

تنخواہ دار طبقے، مزدوروں، کسانوں اور چھوٹےکاروباری افراد کے مسائل نظر انداز کردیئے گئے۔بجٹ پر ردعمل

کوئٹہ (سوموار 15 جون 2026) معروف تاجر رہنماء اور عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی امنگوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا بجٹ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات میں گھرے عوام کیلئے کسی قسم کی امید کی کرن ثابت نہیں ہوسکا۔ بجٹ میں عام آدمی،سرکاری ملازمین، مزدوروں، کسانوں، پنشنرز اور چھوٹے تاجروں کو حقیقی ریلیف دینے کے بجائے محض اعداد و شمار کی جادوگری پیش کی گئی ہے۔

سید امان شاہ نے کہا کہ ملک بھر میں اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس، ادویات، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مگر وفاقی بجٹ میں ان بنیادی مسائل کے حل کیلئے کوئی واضح اور مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کیا گیا اضافہ موجودہ مہنگائی کے تناسب سے انتہائی ناکافی ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئے گی۔

سید امان شاہ نے مزید کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود مسلسل محرومیوں کا شکار ہے۔ وفاقی بجٹ میں صوبے کے بنیادی ڈھانچے، شاہراہوں، تعلیم، صحت، پانی، زراعت اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ بلوچستان کے عوام کو محض وعدوں اور اعلانات کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو سہولیات فراہم کرتی، سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھاتی اور صنعتوں کو سستی توانائی مہیا کرکے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی، مگر بجٹ میں ایسی کوئی جامع پالیسی سامنے نہیں آئی۔

اس کے برعکس ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین معاشی چیلنجز سے دوچار ہے اور ایسے حالات میں ایک عوام دوست، کاروبار دوست اور ترقی پسند بجٹ کی ضرورت تھی، لیکن پیش کردہ بجٹ عوامی مسائل کے حل کے بجائے حکومتی دعوؤں اور رسمی اعلانات کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے مہنگائی کے خاتمے، روزگار کے فروغ، تنخواہ دار طبقے کو حقیقی ریلیف، زراعت اور صنعت کی بحالی اور بلوچستان سمیت تمام پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے عملی اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات دلائی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں