بلوچستان کا بجٹ عوام اور ملازمین دشمن ہے
پرامن احتجاج کرنے والے ملازمین پر تشدد، گرفتاریوں اور شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں: سید اما ن شاہ، پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق، صوبائی قیادت اے، پی، پی، بلوچستان

کوئٹہ (جمعرات 18 جون 2026) عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی کنوینئر سید امان شاہ اور صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے بلوچستان حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے صوبائی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بلوچستان کی تاریخ کا بدترین، عوام دشمن اور ملازمین دشمن بجٹ ہے جس میں عام شہریوں، سرکاری ملازمین، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں اور بے روزگار طبقے کیلئے کوئی حقیقی ریلیف موجود نہیں۔ اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام پہلے ہی شدید مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور معاشی بحران کا شکار ہیں، لیکن حکومت نے بجٹ میں عوامی مسائل کے حل کیلئے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ سرکاری ملازمین جو مہنگائی کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی تنخواہوں اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ نہ کرکے حکومت نے ان کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔رہنماؤں نے بجٹ اجلاس کے موقع پر اپنے جائز حقوق اور مطالبات کیلئے پرامن احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس شیلنگ اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری دور میں اس قسم کا ریاستی تشدد ناقابل قبول ہے۔ حکومت کا یہ رویہ مارشل لاء ادوار کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں آواز بلند کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین اپنے آئینی اور قانونی حقوق کیلئے پرامن انداز میں احتجاج کر رہے تھے، لیکن حکومت نے مذاکرات اور افہام و تفہیم کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔ احتجاجی ملازمین پر تشدد دراصل پورے محنت کش طبقے کی توہین ہے۔ سید امان شاہ اور پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے مطالبہ کیا کہ گرفتار ملازمین کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف قائم مقدمات واپس لیے جائیں، زخمی ملازمین کے علاج معالجے کے انتظامات کیے جائیں اور ملازمین کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے نمائندوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی بلوچستان عوام اور ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر قسم کے جمہوری، آئینی اور پرامن حقِ احتجاج کی حمایت کرتی رہے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل، مہنگائی کے خاتمے اور ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر عوامی بے چینی اور احتجاج میں مزید اضافہ ہوگا جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔