0

پاکستان تاحال حقیقی فلاحی ریاست نہیں بن سکا، وزیراعظم شہباز شریف

بین الاقوامی یومِ نوجوانان کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے نوجوانوں کے لیے روزگار، تعلیم، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور کاروباری مواقع بڑھانے کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا۔

اسلام آبا(12 اگست 2026): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ابھی اس منزل سے کافی دور ہے جہاں اسے ایک حقیقی فلاحی ریاست کہا جا سکے، حالانکہ یہی ملک کے قیام کا بنیادی مقصد تھا۔

بین الاقوامی یومِ نوجوانان 2026 کے موقع پر اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے نوجوانوں کی ترقی کے لیے متعدد نئی اسکیموں کا افتتاح کیا، جن میں پاور سیکٹر انوویشن پروگرام، نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی اور اسکلز ایمبیسیڈر پروگرام شامل ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت خواتین کے لیے لیبر فورس میں 35 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا، جبکہ نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال 10 فیصد اسٹارٹ اپ کوٹہ بھی رکھا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دانش اسکولوں کا مقصد ایسے نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے جو مالی مشکلات کے باعث بہتر تعلیمی مواقع سے محروم رہتے ہیں۔ ان کے مطابق آج انہی اداروں کے ہزاروں طلبہ ڈاکٹر، انجینئر اور اساتذہ کے طور پر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے بتایا کہ رواں سال کے بجٹ میں نوجوانوں کی فلاح و ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ایک ہزار نمایاں طلبہ کو زرعی تعلیم کے لیے چین بھیجا جائے گا، جبکہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم کے لیے بھی طلبہ کو حکومتی خرچ پر چین بھیجا جائے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں دانش یونیورسٹی کے قیام پر کام جاری ہے، جہاں میرٹ کی بنیاد پر طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم مفت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ملک بھر کے 2 لاکھ 50 ہزار نمایاں طلبہ میں رواں سال کروم بُک لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے۔

انہوں نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ان کی صلاحیتوں، محنت اور وژن سے وابستہ ہے، اور حکومت ان کے بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں