امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکا نے بھی مسلسل چھٹے روز ایران کے فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔
بڑھتی ہوئی صورتحال کے باعث خطے کی سلامتی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
تہران/واشنگٹن (جمعہ، 17 جولائی 2026): ایران نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ امریکی افواج نے مسلسل چھٹی رات بھی ایران کے مختلف فوجی مراکز پر فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔
امریکی فوج کے مطابق حملوں میں قشم جزیرہ، بندر عباس کے نواحی علاقے اور دیگر اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیت، فضائی دفاع، ساحلی نگرانی، لاجسٹک نظام اور بحری تنصیبات کو کمزور کرنا ہے۔
دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں میں بندر خمیر کے پانچ پل، ریلوے اسٹیشن اور جنوب مشرقی ایران میں واقع ایران شہر ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بندر خمیر میں پلوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی مراکز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جبکہ قطری وزارت داخلہ نے تصدیق کی کہ ملبہ گرنے سے ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت ایک بار پھر شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو یمن میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے باب المندب کی گزرگاہ پر بھی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں امریکی مفادات کے خلاف کسی بھی کارروائی کو نظر انداز نہیں کریں گے اور ایران کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکا اب بھی سفارتی مذاکرات اور سیاسی حل کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔