اسلام آباد: (18 جون 2026) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے ٹیکس دہندگان کو اہم ریلیف فراہم کر دیا۔ عدالت نے یہ حکم ایک درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران جاری کیا جس میں میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کی جانب سے عائد کیے گئے پراپرٹی ٹیکس کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزار محمد منیر احمد چوہدری اور احمد حسن رانا نے مؤقف اختیار کیا کہ 14 مارچ 2024 کے گزٹ نوٹیفکیشن اور اس کے تحت جاری کیے گئے پراپرٹی ٹیکس بلز متعلقہ قوانین کے منافی ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق ایم سی آئی کو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 اور اربن امووایبل پراپرٹی ٹیکس ایکٹ 1958 کے تحت اس نوعیت کا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پراپرٹی ٹیکس ایک منتخب بلدیاتی ادارے کے بجائے ایک ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے نافذ کیا گیا، جو قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ ٹیکس کے نفاذ سے قبل قانونی طریقہ کار اور ضروری منظوریوں کو بھی مکمل نہیں کیا گیا۔
ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے عبوری ریلیف کے لیے بادی النظر میں قابلِ غور مقدمہ پیش کیا ہے۔ عدالت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد، ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو، کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور وفاقی حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔
عدالت نے متنازع پراپرٹی ٹیکس بلز کی کارروائی معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں اسلام آباد کے وہ پراپرٹی مالکان جنہیں اسی نوعیت کے ٹیکس نوٹسز موصول ہوئے ہیں، فی الحال ٹیکس ادائیگی کے پابند نہیں ہوں گے جب تک عدالت اس معاملے پر مزید فیصلہ نہیں کرتی۔