اسلام آباد (ہفتہ 27 جون 2026) پاکستان بھر کی 95 سول سوسائٹی تنظیموں، حقوق انسانی، نسواں و اطفال کے نیٹ ورکس، قانونی ماہرین، میڈیا نمائندوں اور 219 ممتاز انسانی حقوق کے کارکنوں نے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب میاں محمد شہباز شریف کو ایک مشترکہ خط ارسال کرتے ہوئے نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (NCRC) کے چیئرپرسن اور اراکین کی تقرریوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، غیرشفافیت اور میرٹ سے انحراف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن کی تیسری مدت کے لیے کی جانے والی مبینہ توسیعات اور منتخب افراد کی دوبارہ تقرریاں فوری طور پر منسوخ کی جائیں اور تمام آسامیوں کو قانون کے مطابق شفاف اور مکمل طور پر میرٹ پر مبنی مقابلے کے ذریعے پُر کیا جائے۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ این سی آر سی کی دوسری مدتِ ملازمت اپریل 2026 میں مکمل ہوچکی ہے تاہم اطلاعات کے مطابق بعض عہدیداروں کی مدت ملازمت میں توسیع اور دوبارہ تقرریاں NCRC Recruitment Rules 2022 میں درج قانونی طریقۂ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے کی گئیں جس سے ادارے کی خودمختاری، غیرجانبداری، ساکھ اور عوامی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
آل پاکستان این جی اوز الائنس، الائنس فار ری تھنکنگ کولیشن، چائلڈ رائٹس موومنٹ، اینڈنگ وائلنس اگینسٹ ویمن اینڈ گرلز اسلام آباد و خیبر پختونخوا، نیشنل ایکشن اینڈ کوآرڈینیشن گروپ اگینسٹ وائلنس اگینسٹ چلڈرن، پاکستان دراوڑ اتحاد فار مینارٹی رائٹس، رائٹس آف ایکسپریشن، اسمبلی، ایسوسی ایشن اینڈ تھاٹ نیٹورک، سکھ سیوا سوسائٹی پاکستان سمیت سول سوسائٹی نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ این سی آر سی کے پہلے دور میں تمام اسامیوں کو قومی اخبارات میں مشتہر کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اہل امیدواروں کو مساوی مواقع میسر آئے اور تقرریاں شفاف انداز میں عمل میں آئیں۔ اسی طرح اس وقت نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) میں بھی قانون کے مطابق اخبار اشتہار کے ذریعے میرٹ پر مبنی تقرریوں کا عمل جاری ہے لہٰذا این سی آر سی کے لیے بھی یہی اصول اپنانا ناگزیر ہے۔
مشترکہ خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (UNCRC) اور پیرس پرنسپلز کا دستخط کنندہ ملک ہے اس لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت این سی آر سی میں تقرریوں کا شفاف، آزاد اور میرٹ پر مبنی ہونا لازمی ہے۔ بصورت دیگر نہ صرف پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے انسانی حقوق سے متعلق عزم، ادارہ جاتی خودمختاری اور یورپی یونین کے GSP+ جیسے اہم معاملات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
سول سوسائٹی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وزارتِ انسانی حقوق کو فوری ہدایت جاری کی جائے کہ این سی آر سی کی چیئرپرسن اور تمام اراکین کی خالی آسامیوں کو قومی اخبارات میں مشتہر کیا جائے۔ واضح اہلیت، شفاف انتخابی معیار اور مقررہ ٹائم لائن کے مطابق تقرریوں کا عمل مکمل کیا جائے تاکہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم قومی ادارے کی آئینی حیثیت، خودمختاری، وقار اور مؤثر کردار برقرار رہ سکے۔
اس اہم قومی مطالبے کی حمایت میں ملک بھر سے 95 تنظیموں اور 218 ممتاز شخصیات نے دستخط کیے ہیں جن میں سر فہرست معروف سماجی رہنما طاہرہ عبداللہ نے اس مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرتے ہوئے اس مؤقف کی تائید کی کہ قومی اداروں میں تقرریوں کا واحد معیار شفافیت، قانون کی بالادستی اور میرٹ ہونا چاہیے تاکہ بچوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ مؤثر اور غیرجانبدار انداز میں یقینی بنایا جاسکے۔
یہ مشترکہ خط ایڈووکیٹ وجاہت علی ملک کی جانب سے پاکستان کی سول سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم کو ارسال کیا گیا ہے جس میں حکومت سے فوری اور مؤثر کارروائی کی اپیل کی گئی ہے تاکہ قومی اداروں پر عوامی اعتماد بحال رہے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم ادارہ مکمل آزادی، شفافیت اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرسکے۔